تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا نے بحر عرب میں ضبط کیے گئے ایرانی میزائلوں کی تصاویر جاری کر دیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 8 ربیع الثانی 1441هـ - 6 دسمبر 2019م KSA 09:01 - GMT 06:01
امریکا نے بحر عرب میں ضبط کیے گئے ایرانی میزائلوں کی تصاویر جاری کر دیں
دبئی – العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی وزارت خارجہ نے ایرانی میزائلوں کے اجزاء کی اُس کھیپ کی تصاویر جاری کی ہیں جس کو امریکی بحریہ نے یمن میں حوثی ملیشیا تک پہنچنے سے پہلے بحیرہ عرب میں قبضے میں لے لیا تھا۔

امریکی ذمے داران نے بدھ کے روز بتایا تھا کہ امریکی بحریہ کے ایک جہاز نے ایرانی گائیڈڈ میزائلوں کے اجزاء کی ایک بڑی کھیپ ضبط کر لی ہے۔ یہ کھیپ یمن میں حوثی ملیشیا کو بھیجی جا رہی تھی۔

مذکورہ ذمے داران نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ یہ پہلا موقع ہے جب یمن کے لیے بھیجے جانے والے جدید میزائل اجزاء کی اتنی بڑی کھیپ قبضے میں لی گئی ہے۔ یہ کھیپ بدھ کو رات گئے ہونے والی ایک کارروائی میں ایک چھوٹی کشتی کے اندر سے برآمد کی گئی۔ ذمے داران نے مزید بتایا کہ کشتی کے عملے کو یمنی ساحلی پولیس کے مراکز منتقل کر دیا گیا اور میزائلوں کے اجزاء اس وقت امریکا کے قبضے میں ہیں۔

ایران کے امور سے متعلق امریکا کے خصوصی نمائندے برائن ہک نے جمعرات کے روز اعلان کیا تھا کہ ان کے ملک نے ایران کا ایک بحری جہاز پکڑا ہے جو بحری جہاز شکن میزائلوں کی کھیپ لے کر یمن کی جانب جا رہا تھا۔ واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے صدر دفتر میں ایک پریس کانفرنس میں برائن نے بتایا کہ ضبط کی جانے والی کھیپ زیادہ جدید میزائلوں پر مشتمل ہے۔ امریکی نمائندے نے یمن میں حوثی دہشت گردوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور دہشت گردی کے دیگر جرائم میں ملوث ایرانی پاسداران انقلاب کے سینیر کمانڈر عبدالرضا شہلائی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر1.5 کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا۔ شہلائی پر یمنی ملیشیا کو اسلحہ اور جنگجوؤں کی فراہمی کے ساتھ سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر پرقاتلانہ حملے کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عائد کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں یمنی اراضی پر شہلائی کی موجودگی کے خطرے سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند