تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سوڈان کو دہشت گردی کی امریکی بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے : حمدوک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 8 ربیع الثانی 1441هـ - 6 دسمبر 2019م KSA 10:32 - GMT 07:32
سوڈان کو دہشت گردی کی امریکی بلیک لسٹ سے نکالنے کے لیے پیش رفت ہوئی ہے : حمدوک
واشنگٹن – ایجنسیاں

سوڈان میں عبوری حکومت کے سربراہ وزیراعظم عبداللہ حمدوک کا کہنا ہے دہشت گردی کو سپورٹ کرنے والے ممالک کی امریکی فہرست سے سوڈان کا نام نکالے جانے کے حوالے سے "پیش رفت" ہوئی ہے۔ یہ بات انہوں نے جمعرات کے روز امریکا کے تاریخی دورے کے اختتام پر کہی۔

حمدوک 1985 کے بعد واشنگٹن کا دورہ کرنے والے پہلے سوڈانی سربراہ ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ ، وزارت خزانہ اور کانگرس کے سینئر ذمے داران سے ملاقاتوں کے بعد حمدوک نے اٹلانٹک کونسل ریسرچ سینٹر کے زیر انتظام ایک کانفرنس سے خطاب میں کہا کہ "بات چیت میں اصل توجہ یقینا سوڈان کا نام دہشت گردی کے معاون ممالک کی فہرست سے ہٹانے پر مرکوز تھی"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "اس معاملے نے بہت سی کارروائیوں میں رکاوٹ ڈال رکھی ہے تاہم حالیہ چند ماہ کے دوران امریکیوں کے ساتھ شروع ہونے والی بات چیت بہت اچھی شکل میں آگے بڑھ رہی ہے"۔

حمدوک سابق سفارت کار ہیں جنہوں نے برطانیہ میں تعلیم حاصل کی۔ ان کا کہنا تھا کہ سوڈان کا بلیک لسٹ ہونا نہ صرف سرمایہ کاری پر بلکہ ملکی قرضوں میں کمی کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی اثر انداز ہوا۔

واشنگٹن ابھی تک سوڈان کو "دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والے ملک" کا درجہ دیتا ہے۔

سوڈان کے مطالبات کے ساتھ ہمدردی رکھنے کے باوجود امریکی ذمے داران کا کہنا ہے کہ سوڈان کا نام بلیک لسٹ سے نکالان ایک قانونی عمل ہے جس میں وقت درکار ہو گا۔

امریکا نے حمدوک کے واشنگٹن کے دورے کے دوران بدھ کے روز اعلان کیا کہ وہ 23 برس بعد پہلی مرتبہ سوڈان میں اپنا سفیر مقرر کرے گا۔

امریکا نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں اور کارروائیوں کو تبدیل کرنے کی غرض سے سوڈانی عبوری وزیراعظم حمدوک کے اقدامات کو سراہا۔

امریکا اور 1989 میں اقتدار سنبھالنے والی عمر البشیر حکومت کے درمیان تعلقات پر کشیدگی چھانے کی وجہ سوڈانی حکومت کا شدت پسندانہ رجحان اختیار کرنا اور کچھ عرصے کے لیے القاعدہ تنظیم کے سربراہ اسامہ بن لادن کی میزبانی کرنا تھا۔

کانگرس میں ہونے والی بات چیت میں امریکی ایوان نمائندگان کے ارکان نے سوڈان کی نئی حکومت کو سپورٹ کرنے کا عزم کیا۔ تاہم انہوں نے 1998 میں کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے دہشت گرد حملوں کا شکار ہونے والے افراد کے اہل خانہ کے ساتھ تصفیے تک پہنچنے کی ضرورت پر زور دیا۔

اس حوالے سے حمدوک کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کا شکار ہونے والے مذکورہ افراد کے اہل خانہ کے ساتھ بات چیت میں پیش رفت ہو رہی ہے ،،، اور امید ہے کہ کسی نتیجے تک پہنچا جا سکے گا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند