تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ٹرمپ نے 12 ہزار فوجی مشرق وسطی بھیجنے سے متعلق خبر کو جھوٹ قرار دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 8 ربیع الثانی 1441هـ - 6 دسمبر 2019م KSA 09:27 - GMT 06:27
ٹرمپ نے 12 ہزار فوجی مشرق وسطی بھیجنے سے متعلق خبر کو جھوٹ قرار دیا
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس خبر کی تردید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ وزارت دفاع (پینٹاگان) خلیج میں ایرانی خطرات کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں اپنی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے کے واسطے 12 ہزار فوجیوں کو مشرق وسطی بھیجنے پر غور کر رہی ہے۔

ٹرمپ نے جمعے کے روز اپنی ٹویٹ میں کہا کہ "یہ خبر کہ ہم 12 ہزار فوجیوں کو سعودی عرب بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں ،،، یہ ایک فرضی کہانی ہے بلکہ ایک جھوٹی خبر ہے"۔

اس سے قبل امریکی چینل "فوكس نيوز" نے جمعرات کے روز بتایا تھا کہ وزارت دفاع مشرق وسطی میں 7 ہزار اضافی فوجی تعینات کرنے پر غور کر رہی ہے تا کہ خطے میں ایران کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نمٹا جا سکے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی نے بھی جمعرات کے روز ایک امریکی ذمے دار کے حوالے سے بتایا تھا کہ امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے 5 سے 7 ہزار اضافی فوجی مشرق وسطی بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ذمے دار نے یہ بات شناخت ظاہر نہ کرنے کی درخواست پر بتائی۔ امریکی ذمے دار نے یہ نہیں بتایا کہ اضافی فوجیوں کو کب اور کہاں تعینات کیا جائے گا .. تاہم انہوں نے حوالہ دیا کہ یہ اقدام ایران کے ساتھ تعلقات رکھنے والی ایک جماعت کے حملوں کے جواب میں ہو گا جس نے حالیہ مہینوں کے دوران امریکی مفادات کو نشانہ بنایا۔

ادھر کانگرس کے ایک اجلاس میں نائب وزیر دفاع جون روڈ کا کہنا تھا کہ "امریکا نے تشویش کے ساتھ ایران کے رویے پر نظر رکھی ہوئی ہے۔ ہم خطرے کے سطح کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور ہم اپنی موجودگی کو تیزی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی قدرت رکھتے ہیں"۔

تاہم جون روڈ نے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل کی اس رپورٹ کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ مشرق وسطی کے خطے میں 14 ہزار اضافی امریکی فوجیوں کے تعینات کیے جانے کا امکان ہے۔ اسی طرح پینٹاگان کی ترجمان الیسا فرح نے بھی ٹویٹر پر اس تعداد کو مسترد کر دیا تھا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے کرسی صدارت پر پہنچنے کے بعد سے امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں باقاعدگی سے اضافہ ہوتا چلا گیا۔ بالخصوص ایران کے جوہری معاہدے سے واشنگٹن کی یک طرفہ علاحدگی اور ایران پر ایک بار پھر سے شدید اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کے بعد !

گذشتہ چند ماہ کے دوران مشرق وسطی میں کئی حادثات اور واقعات پیش آئے جن کو واشنگٹن نے ایران کے ساتھ منسوب کیا۔

امریکا، مغربی ممالک اور سعودی عرب نے تہران پر الزام عائد کیا تھا کہ ستمبر میں سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات کو فضائی ضربوں کا نشانہ بنانے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔

یکم اکتوبر کو امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر نے ایران کے "شرپسند موقف" پر تنقید کرتے ہوئے اسے مشرق وسطی کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور عالمی معیشت میں تطل لانے کا ذمے دار ٹھہرایا تھا۔

اسی طرح امریکا کو عراق میں فوجی اڈوں پر بڑھتے ہوئے حملوں کے سلسلے میں بھی تشویش لاحق ہے۔ عراقی عوام معاشی اخراجات میں بے پناہ اضافے اور ملکی معاملات میں غیر ملکی بالخصوص ایرانی مداخلت پر سراپا احتجاج ہیں۔

ایک اور امریکی ذمے دار کا کہنا ہے کہ میزائل داغے جانے کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔ یہ بات واضح ہے کہ اس کا تعلق داعش تنظیم سے نہیں ہے۔ تمام کارروائیاں صحیح سمت اور درست فاصلے کے ساتھ عمل میں آ رہی ہیں۔ ذمے دار نے مزید کہا کہ "ہم خوش قمست ہیں کہ ان کارروائیوں میں کوئی ہلاک نہیں ہوا"۔

منگل کے روز عراق میں عین الاسد کے فضائی اڈے پر پانچ میزائل آ کر گرے تھے۔ یہ کارروائی امریکی نائب صدر مائیک پینس کے عراق کے دورے کے چار روز بعد کی گئی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند