تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
گذشتہ برس خسرہ سے 1.4 لاکھ افراد کی موت واقع ہوئی : عالمی ادارہ صحت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 26 جمادی الاول 1441هـ - 22 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 8 ربیع الثانی 1441هـ - 6 دسمبر 2019م KSA 12:12 - GMT 09:12
گذشتہ برس خسرہ سے 1.4 لاکھ افراد کی موت واقع ہوئی : عالمی ادارہ صحت
لندن – ایجنسیاں

عالمی ادارہ صحت نے ایک اعلان میں بتایا ہے کہ گذشتہ برس دنیا بھر میں ایک کروڑ کے قریب افراد کو خسرہ کا مرض لاحق ہوا۔ اس بیماری کے نتیجے میں تقریبا 1.4 لاکھ افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں اکثریت بچوں کی تھی۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہینوم نے جمعرات کے روز بتایا کہ 2018 میں خسرہ سے فوت ہونے والوں میں بڑی تعداد اُن بچوں کی ہے جن کی عمر پانچ برس سے کم تھی۔ ان بچوں کو خسرہ سے بچاؤ کی مطلوبہ ویکسین نہیں مل سکی۔ ان کا کہنا تھا کہ خسرہ سے ویکسین کے ذریعے بچا جا سکتا ہے ، اس طرح کے مرض سے کسی بھی بچے کا فوت ہو جانا درحقیقت بچوں کو تحفظ فراہم کرنے میں اجتماعی ناکامی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق رواں سال (2019 میں) صورت حال ابتر ہے۔ نومبر تک کے ابتدائی اعداد و شمار سے معلوم ہوتا ہے کہ خسرہ سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد گذشتہ سال اسی عرصے کے مقابلے میں تین گنا زیادہ ہو چکی ہے۔

امریکا میں 2019 کے دوران گذشتہ 25 برسوں میں خسرہ کے سب سے زیادہ کیسوں کا اندراج ہوا۔ دوسری جانب یورپ کے چار ممالک اپنی "خسرہ سے خالی ہونے کی صفت" سے محروم ہو گئے۔ البانیا، چیک ریپبلک، یونان اور برطانیہ کو یہ اہم کامیابی اور اعزاز عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 2018 میں ملا تھا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2018 میں خسرہ کے پھیلاؤ کے لحاظ سے پانچ ممالک سرفہرست رہے۔ ان پانچ ممالک میں ریکارڈ ہونے والے خسرہ کے کیس پوری دنیا میں سامنے آنے والے کیسوں کی نصف تعداد کے برابر تھے۔ یہ پانچ ممالک لائبیریا، ڈیموکریٹک کانگو، مڈگاسکر، صومالیہ اور یوکرین ہیں۔

دنیا کے بعض امیر ممالک میں ان امراض کے خلاف ویکسینیشن کا تناسب کم ہو گیا۔ اس کا سبب والدین کی جانب سے مذہبی یا نظریاتی وجوہات کی بنا پر ویکسین سے انکار کر دینا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند