تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکا اور سعودی عرب کو مطلوب دہشت گرد ایرانی کمانڈر شہلائی کون؟
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 جمادی الاول 1441هـ - 19 جنوری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 9 ربیع الثانی 1441هـ - 7 دسمبر 2019م KSA 07:57 - GMT 04:57
امریکا اور سعودی عرب کو مطلوب دہشت گرد ایرانی کمانڈر شہلائی کون؟
دبئی ۔ مسعود الزاھد

ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی برائن ہک نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ ان کے ملک نے یمن میں حوثی باغیوں کے لیے میزائل لے جانے والے ایرانی جہاز کو ضبط کرلیا گیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن میں امریکی محکمہ خارجہ کے ہیڈ کوارٹر میں پریس کانفرنس کے دوران مزید کہا کہ بحر عرب میں ایرانی جہاز سے ضبط شدہ میزائلوں کی کھیپ انتہائی اعلی درجے کی اور جدید ترین ہے۔

دریں اثنا واشنگٹن نے پاسداران انقلاب کے ایک سینیر کمانڈر عبد الرضا شہلائی کے بارے میں معلومات فراہم کرنے والے پر 15 ملین ڈالر کے انعام کا اعلان کیا ہے۔ شہلائی حوثی ملیشیا کو دہشت گردی کی کارروائیوں اور اسلحہ کی ترسیل میں ملوث ہے۔ اس کے علاوہ شہلائی سعودی وزیر برائے امور خارجہ عادل الجبیر کے قتل کی کوشش کے معاملے بھی امریکا اور سعودی عرب دونوں کو مطلوب ہے۔

برائن ہک نے خبردار کیا کہ شہلائی اس وقت یمن میں ہے اور اس کی یمن میں موجودگی انتہائی خطرناک ہے۔

سعودی عرب اور بحرین نے شہلائی کو دہشت گرد قرار دیا

23 نومبر 2018 کو سعودی عرب اور بحرین نے ایران کی تخریبی سرگرمیوں کی حمایت کرنے کے الزام میں قاسم سلیمانی سمیت 3 افراد اور ایرانی پاسداران انقلاب کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا۔

سعودی عرب میں اسٹیٹ سیکیورٹی کمیٹی نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ ہم آہنگی کے دائرہ کار میں سعودی عرب اور بحرین نے چار ناموں کو بلیک لسٹ کیا ہے۔ حال ہی میں امریکی وزارت خزانہ نے بھی انہیں دہشت گرد قرار دیا ہے۔ ان میں قدس ملیشیا کے سربراہ قاسم سلیمانی، حمید عبدالہی اور عبد الرضا شہلائی شامل ہیں۔

عبد الرضا شہلائی کون ہے؟

ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے بیرون ملک سرگرم گروپ فیلق القدس میں شامل شہلائی کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں اور نہ ہی ان کی مختلف تصاویر سامنے آئی ہیں۔۔ تاہم ایرانی اپوزیشن کے مطابق شہلائی عراق سے شام اور لبنان تک خطے میں فرقہ وارانہ ملیشیاؤں کی حمایت کر کے ایران کے منصوبوں اور مقاصد کو عملی جامہ پہنانے میں پیش پیش ہے۔

تاہم اس سے قبل حزب اختلاف کی کچھ اطلاعات میں شہلائی کے بارے میں معلومات سامنے آئی تھیں، جن میں مجاہدین خلق آرگنائزیشن کی ایک رپورٹ بھی شامل ہے۔ یہ رپورٹ 10 جولائی 2014 کو جاری کی گئی تھی۔ اس نے شام اور عراقی حکومتوں کو جولائی 2014 کے دوران ایرانی فوجی امداد کی نوعیت پر روشنی ڈالی تھی۔ رپورٹ میں امداد کی نوعیت اور حجم کو تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں قاسم سلیمانی کے علاوہ قدس فورس کمانڈروں میں شہلائی کا نام بھی شامل ہے جو یمن، لبنان ، عراق اور شام جیسے عرب ممالک میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیائوں کے ساتھ رابطے میں ہے۔

اس رپورٹ میں عراق میں قدس فورس اور پاسداران انقلاب کے عناصر کا انکشاف کیا گیا۔ بعض عالمی اور امریکی ذرائع ابلاغ میں بھی شہلائی کا نام سامنے آیا تاہم اس کی مزید تفصیل سامنے نہیں آسکی ہے۔ حال ہی میں امریکا نے شہلائی کی گرفتاری میں مدد دینے کے لیے 15 ملین ڈالر کا انعام مقرر کیا ہے۔

امریکی محکمہ خزانہ نے 11 اکتوبر سنہ 2011 کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ شہلائی ایرانی پاسداران ان انقلاب کی بیرون ملک قائم تنظیم فیلق القدس کے اہم کمانڈر ہیں جو امریکا میں سابق سفیر عادل الجبیر پرحملے کی منصوبہ بندی میں بھی شامل رہے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند