تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ، دونوں نے ایک دوسرے کا ایک ایک قیدی رہا کر دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 1 جمادی الثانی 1441هـ - 27 جنوری 2020م
آخری اشاعت: اتوار 10 ربیع الثانی 1441هـ - 8 دسمبر 2019م KSA 07:41 - GMT 04:41
ایران اور امریکا کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ، دونوں نے ایک دوسرے کا ایک ایک قیدی رہا کر دیا
واشنگٹن ۔ بیر غانم

امریکا اور ایران کے درمیان ہفتے کے روز قیدیوں کا تبادلہ ہوا ہے۔ ایران نے چینی نژاد امریکی سکالر زیو وانگ جبکہ امریکا نے ایک ایرانی سائنس دان مسعود سلیمانی کو رہا کیا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان قیدیوں کا یہ تبادلہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں شدید تناؤ پایا جاتا ہے۔ زیو وانگ ایران کی بدنام زمانہ جیل ایفین میں قید رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وانگ کی رہائی کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ وہ ایران کے ساتھ قیدیوں کے معاملے پر زیاہ اہمیت دیتے ہیں۔ ایران میں قید دوسرے امریکیوں کی رہائی کے بھی اقدامات کیے جائیں گے۔

ابتدائی اطلاعات

زیو وانگ کی رہائی کی پہلی خبر جمعرات کے روز سامنے آئی۔ لبنان کے ایک سابق قیدی نزار زکا نے العربیہ کو ٹیلیفون پر بتایا کہ اس نے اپنے دو سابق قیدی ساتھیوں سے رابطہ کیا ہے۔ دونوں ایرانی جیلوں میں قید رہے ہیں۔ ان سابقہ قیدیوں نے تبایا کہ شیو وانگ کا سامان پیک کرنے کے بعد اسے جیل سے باہر لے جایا گیا ہے اور وہ اب جا چکا ہے۔

نزار زکا نے بتایا کہ قیدیوں کے تبادلے میں سوئٹرزلینڈ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔بدھ کو نزار زکا خود ایفین جیل میں آئے تھے اور وہ وانگ کو اپنے ساتھ سفارت خانے لے گئے ہیں۔

خیال رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان سفارتی تعلقات ختم ہونے کے بعد دوسرے ممالک کے ذریعے دونوں ممالک سفارتی امور سے متعلق رابطے کرتے ہیں۔ امریکا سوئٹرزلینڈ کے ذریعے ایران سے رابطے کرتا ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے قیدیوں کے تبادلے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس بارے میں خوش ہیں۔

امریکا کی خاموشی

جمعرات کو جب یہ خبریں آئیں کہ ایران میں قید زیو وانگ کو رہا کردیا گیا ہے تو العربیہ چینل نے وائٹ ہائوس سے اس حوالے سے رابطہ کیا تو مگر نہ تو وزارت خارجہ کی طرف سے کوئی جواب دیا گیا اور نہ امریکی حکومت کے کسی دوسرے حلقے نے اس کی تصدیق یا تردید کی۔ امریکی حکام سے ای میل کے ذریعے بھی اس بارے میں پوچھا گیا مگر کوئی جواب نہیں ملا۔

شاید امریکا کی خاموشی کی وجہ یہ تھی کی جب وانگ کی رہائی کی خبریں آ رہی تھیں تو ایران کے لیے امریکی ایلچی برائن ہک کی ایک پریس کانفرنس ہو رہی تھی جس میں انہوں نے ایران پر الزام عاید کیا تھا کہ اس نے ایک ہزار مظاہرین کو ہلاک کردیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے دعویٰ کیا کہ امریکی فوج بحر عرب میں اسلحہ، گولہ بارود اور میزائلوں کے اسپیئر پارٹس پرمشتمل ایک جہاز پکڑا ہے جسے ایران سے یمن کے حوثی باغیوں کو بھیجا جا رہا تھا۔

قیدیوں کا تبادلہ

چینی نژاد امریکی سکالر زیو وانگ کو اگست سنہ 2016ء میں ایران سے اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب وہ ملک چھوڑ رہے تھے۔

انھیں ’دشمن ممالک کے ساتھ تعاون اور جاسوسی کے الزام میں گرفتار کیا گیا' اس کے علاوہ ایران نے دعویٰ کیا کہ زیو وانگ امریکا اور برطانیہ کے تعلیمی اداروں کے لیے ’انتہائی خفیہ مضامین‘ جمع کرنا چاہتے ہیں۔ اسی الزام میں ان پر مقدمہ چلایا گیا اور انھیں دس سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

سٹیم سیل شعبے کے ماہر ایرانی سائنس دان مسعود سلیمانی کو گزشتہ برس اکتوبر میں شکاگو ایئرپورٹ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر حیاتاتی مواد ایران لے جانے کا الزام تھا جو کہ امریکا کی ایران پر تجارتی پابندیوں کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔

تاہم زیو وانگ اور مسعود سلیمانی اپنے اوپر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

تبادلے کا یہ عمل سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں مکمل ہوا۔ دونوں ممالک نے اپنے شہریوں کی رہائی میں ثالث کا کردار ادا کرنے پر سوئٹزرلینڈ حکومت کا شکریہ ادا کیا ہے۔

ایک امریکی عہدیدار کا کہنا ہے کہ زیو وانگ کی رہائی ایران پر انتہائی دبائو ڈالنے کی پالیسی کا نتیجہ ہے۔ یہ پالیسی کامیاب رہی ہے اور آج ایران نے اسی دبائو کے تحت امریکی کو رہا کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند