تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
شاہ سلمان کا ایران کے خلاف خطۂ خلیج کے اتحاد کی ضرورت پر زور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

منگل 1 رجب 1441هـ - 25 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 12 ربیع الثانی 1441هـ - 10 دسمبر 2019م KSA 16:43 - GMT 13:43
شاہ سلمان کا ایران کے خلاف خطۂ خلیج کے اتحاد کی ضرورت پر زور
شاہ سلمان بن عبدالعزیز متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم سے جی سی سی کے سربراہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے فرماں روا شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے خطے میں ایرانی نظام کے جارحانہ کردار سے نمٹنے کے لیے خلیجی ممالک میں اتحاد کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

وہ منگل کے روز سعودی دارالحکومت الریاض میں منعقدہ خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کے سربراہ اجلاس کے افتتاح کے موقع پر خطاب کررہے تھے۔انھوں نے کہا کہ ’’ایرانی رجیم نے خطے میں جارحانہ پالیسیاں جاری رکھی ہوئی ہیں جن سے ہمسایہ ممالک کے استحکام کو نقصان پہنچتا ہے۔‘‘

شاہ سلمان نے کہاکہ جی سی سی نے اپنے قیام کے بعد سے خطے کو درپیش ہونے والے کئی ایک بحرانوں پر قابو پایا ہے۔انھوں نے عالمی برادری پر بھی زور دیا کہ وہ توانائی کی رسد اور محفوظ بین الاقوامی جہاز رانی اور آزادانہ حمل و نقل کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

قبل ازیں شاہ سلمان نے منگل کی صبح جی سی سی کے سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے دوسرے ممالک کے وفود کا خیرمقدم کیا۔ان میں متحدہ عرب امارات کے نائب صدر اور وزیراعظم شیخ محمد بن راشد آل مکتوم ، امیرکویت شیخ صباح الاحمد الصباح ،بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ ، قطر کے وزیراعظم شیخ عبداللہ بن ناصر خلیفہ آل ثانی اور عُمان کے نائب وزیراعظم فہد بن محمود السعید شامل ہیں۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس میں بین الاقوامی جہاز رانی کی سکیورٹی ،خطے میں ایران کی مداخلت ، شام میں جاری بحران ، یمن جنگ اور کونسل کے رکن ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔

جی سی سی کے اس سربراہ اجلاس سے قبل گذشتہ چند ایک ماہ کے دوران میں خطے میں پے درپے کئی ایک واقعات رونما ہوئے ہیں۔ ان میں سے سب اہم 14 ستمبر کو سعودی آرامکو کی دو تنصیبات پر ڈرون حملہ تھا۔اس حملے کا الزام ایران پر عاید کیاگیا تھا لیکن اس نے اس کی تردید کی تھی۔اس کے علاوہ خلیج عرب میں تیل بردار اور مال بردار بحری جہازوں پر حملے کیے گئے ہیں اور ان تمام حملوں کا الزام بھی ایران پر عاید کیا گیا تھا۔

جی سی سی امریکا کی ایران کے خلاف کڑی پابندیوں کے ذریعے ’’زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ برقرار رکھنے کی پالیسی کی حمایت کرتی ہے۔خطہ خلیج ان پابندیوں کےردعمل میں ایران کی کسی بھی طرح کی کارروائی سے نمٹنے کے لیے تیار رہا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند