تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبیا کے نزدیک آنے والے کسی بھی تُرک بحری جہاز کو ڈبو دیں گے : سربراہ بحریہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 14 ربیع الثانی 1441هـ - 12 دسمبر 2019م KSA 09:10 - GMT 06:10
لیبیا کے نزدیک آنے والے کسی بھی تُرک بحری جہاز کو ڈبو دیں گے : سربراہ بحریہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لیبیا میں بحری افواج کے کمانڈر میجر جنرل فرج المہدوی نے خبردار کیا ہے کہ اُن کے پاس یہ احکامات موجود ہیں کہ لیبیا کے ساحلوں کے نزدیک آنے والے کسی بھی ترک جہاز کو سمندر میں غرق کر دیا جائے۔ یہ بات یونان کی ویب سائٹ Greek Reporter نے منگل کے روز بتائی۔ دوسری جانب ترکی کے ایوان صدارت نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اسے امید ہے کہ لیبیا کی حکومت ترک فوجیوں کو اپنی سرزمین پر بلانے پر مجبور نہیں ہو گی۔

ویب سائٹ رپورٹ کے مطابق جنرل فرج المہدوی نے رواں ہفتے یونان کے "الفا" ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں ترکی اور لیبیا کی وفاق کی حکومت کے بیچ حال ہی میں دستخط ہونے والے سمجھوتے پر شدید اعتراض کا اظہار کیا۔ المہدوی اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر یونانی زبان میں یہ پوسٹ کر چکے ہیں کہ "ہم جلد ہی دارالحکومت طرابلس کو آزاد کرا لیں گے اور ترکی کا خواب چکناچور کر دیں گے"۔

واضح رہے کہ المہدوی یونانی زبان روانی سے بولتے ہیں۔ وہ 1970 میں یونان میں نیول اکیڈمی سے فارغ التحصیل ہوئے تھے۔

لیبیا کی پارلیمنٹ کے اسپیکر کے میڈیا مشیر فتحی المریمی بدھ کے کے روز باور کرا چکے ہیں کہ لیبیا کی فوج ترکی یا کسی اور کو اُس معاہدے کی آڑ میں لیبیا کے عوام کی دولت اور ملک کے وسائل لوٹنے کی اجازت ہر گز نہیں دے گی ،،، جس پر ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے وفاق کی حکومت کے وزیراعظم فائز السراج کے ساتھ دستخط کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے المریمی کا کہنا تھا کہ اگر ایردوآن نے فوجیوں ، عسکری گاڑیوں اور وفاق کی ملیشیاؤں کے لیے ہتھیار بھیجنے کی جرات کی اور یا پھر لیبیا کے ساحلوں یا سرحدوں کے نزدیک آنے کا سوچا تو پھر ترکی کے ساتھ عسکری مقابلہ لا محالہ ہو گا۔ ترکی کے ساتھ تنازع پھیل سکتا ہے کیوں کہ ترک صدر جو کچھ سوچ رہے ہیں اس سے لیبیا اور دیگر برادر اور دوست ممالک کے مفادات کو خطرہ ہے۔ لہذا اس مقابلے میں یہ دوست اور برادر ممالک ہمارا ساتھ دے سکتے ہیں۔

المریمی کے مطابق ترکی اور وفاق کی حکومت کے بیچ طے پانے والا سمجھوتا عوام اور پارلیمنٹ کی جانب سے مسترد شدہ ہے۔ اس کے علاوہ یہ لیبیا کے آئین کے بھی خلاف ہے لہذا اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ تاہم ایردوآن اس کے ذریعے طرابلس میں دہشت گرد ملیشیاؤں پر پردہ ڈالنا چاہتے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند