تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 15 ربیع الثانی 1441هـ - 13 دسمبر 2019م KSA 12:05 - GMT 09:05
امریکی وزارت خزانہ حزب اللہ کی مقرب شخصیات پر پابندیاں عائد کر رہی ہے
واشنگٹن - ناديا البلبيسی

العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو موصول ہونے والی خصوصی معلومات کے مطابق امریکی وزارت خزانہ اُن لبنانیوں پر پابندیاں عائد کر دے گی جن پر منی لانڈرنگ اور ٹیکسوں کی عدم ادائیگی کے الزامات ہیں۔ امریکی وزارت مذکورہ جرائم میں ملوث افراد کے ناموں کا اعلان آج جمعے کے روز کرے گی۔

ایک سے زیادہ ذرائع نے العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کو بتایا ہے کہ امریکی انتظامیہ دہشت گرد تنظیم حزب اللہ کی مقرب شخصیات کے احتساب کے ضمن میں باقاعدگی کے ساتھ افراد کے نام پابندیوں کی فہرست میں شامل کرتی ہے۔ ان افراد کے نام حزب اللہ کے لیے ان کی سپورٹ یا ان کے قریبی تعلقات کی تصدیق ہونے کے بعد شامل کیے جاتے ہیں۔

حزب اللہ کو لوجسٹک سپورٹ فراہم کرنے والے ہر شخص کے احتساب کے لیے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ سختی سے عمل پیرا ہے اور وہ ان افراد کے نام پابندیوں کی فہرستوں میں ڈالنے سے کسی طور نہیں ہچکچاتی۔ اس کا مقصد مذکورہ افراد کو بینک کے ذریعے لین دین سے محروم کرنا اور ان کے بینک کھاتوں کو منجمد کرنا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک امریکی ذمے دار نے "العربيہ" اور "الحدث" نیوز چینلوں کو اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کے معاون اور لبنان میں سابق امریکی سفیر ڈیوڈ ہل آئندہ ہفتے بغداد کے دورے کے موقع پر بیروت بھی جائیں گے۔ ذمے دار نے مزید بتایا کہ ڈیوڈ ہل لبنانی حکام کے لیے ایک واضح اور طاقت ور پیغام لے کر جائیں گے وہ یہ کہ امریکی انتظامیہ لبنانی عوام کے مطالبات پورے کرنے والی حکومت کی تشکیل کے بعد ہی ،،، لبنان کو اقتصادی طور پر ڈھیر ہونے سے بچانے کے واسطے مالی سپورٹ پیش کرے گی۔ لبنانی عوام مظاہروں کے ذریعے بدعنوانی کے خلاف جنگ کا اور ٹکنوکریٹس پر مشتمل حکومت کی تشکیل کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

ایسا نظر آ رہا ہے کہ امریکا کا یہ موقف یورپی اور علاقائی ممالک کے موقف سے مطابقت رکھتا ہے۔ ان ممالک کے مطابق ضرورت اس بات کی ہے کہ بنیادی نوعیت کی اقتصادی اصلاحات اور مظاہرین کے مطالبات کی نمائندگی کرنے والی حکومت کی تشکیل کے بغیر موجودہ لبنانی حکومت کو کسی قسم کی مالی مدد فراہم نہ کی جائے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند