تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی کے تصرفات قابل اعتماد شراکت دار جیسے نہیں: امریکی وزیر دفاع
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 16 ربیع الثانی 1441هـ - 14 دسمبر 2019م KSA 09:53 - GMT 06:53
ترکی کے تصرفات قابل اعتماد شراکت دار جیسے نہیں: امریکی وزیر دفاع
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

امریکی وزیر دفاع مارک ایسپر کا کہنا ہے کہ ترکی نے اس وقت ایسی سیاسی روش اختیار کر رکھی ہے جو امریکا کے اسلوب سے مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے یہ بات جمعے کے روز نیویارک میں خارجہ تعلقات کی کونسل میں دیے گئے ایک بیان میں کہی۔

ایک سوال کے جواب میں ایسپر نے واضح کیا کہ ترکی کے تصرفات کسی طور بھی "ایک قابل اعتماد شراکت دار جیسے نہیں" کیوں کہ وہ امریکا کی سمت کے مخالف سمت چل رہا ہے۔

امریکی وزیر دفاع کے مطابق ترکی نے نیٹو کے سلسلے میں منصوبہ بندی کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور وہ شام میں داخل ہو گیا، یہ بات فائدہ مند نہیں شمار ہوتی۔

یاد رہے کہ ترکی کے روسی S-400 دفاعی میزائل سسٹم کی خریداری کے بعد سے انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی اور تناؤ دیکھا جا رہا ہے۔

اسی طرح اکتوبر کے آغاز میں ترکی کی فوج کی جانب سے شمال مشرقی شام میں کیے جانے والے فوجی آپریشن نے انقرہ اور نیٹو اتحاد میں اس کے حلیف ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا کر دی ، ان ممالک میں امریکا بھی شامل ہے۔ ترکی کا کہنا ہے کہ شام میں مذکورہ آپریشن کا مقصد کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے جنگجوؤں کو اپنی سرحد کے نزدیک سے دور بھگانا ہے۔

امریکی وزیر دفاع نے جمعے کے روز خارجہ تعلقات کی کونسل میں قومی سلامتی کے ماہرین کے سامنے عسکری اخراجات میں اُس اضافے کا دفاع کیا جس کا مطالبہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کے حلیف ممالک سے کر رہے ہیں۔ مارک ایسپر نے باور کرایا کہ نیٹو اتحاد "طفیلی" ممالک کے اخراجات کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا۔

ایسپر کے مطابق زیادہ تر ممالک امریکا کو عالمی سیکورٹی کے لیے بہترین شریک شمار کرتے ہیں، یہ محض ہماری عسکری صلاحیتوں اور ساز و سامان کی برتری کے سبب نہیں بلکہ اس میں ان اقدار کا بھی کردار ہے جن کا ہم دفاع کرتے ہیں۔

ایسپر نے بتایا کہ امریکا اپنی مجموعی مقامی پیداوار کا 3.5% حصہ اپنے اور اپنے حلیفوں اور شراکت داروں کے دفاع پر خرچ کرتا ہے جب کہ کئی ممالک دفاع پر 1% سے بھی بہت کم خرچ کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم کئی دہائیوں سے اپنے یورپی شراکت داروں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ نیٹو اتحاد میں زیادہ حصہ ڈالیں مگر انہوں نے ایسا نہ کیا۔

یاد رہے کہ نیٹو اتحاد میں شریک ممالک نے 2014 میں خود کو اس بات کا پابند بنایا تھا کہ 2024 میں وہ مجموعی قومی پیداوار کا 2% تک حصہ دفاع پر خرچ کریں گے تاہم 2019 تک ان میں صرف 9 ممالک ہی اس ہدف تک پہنچ پائے ہیں۔ جرمنی یہ کہہ چکا ہے کہ وہ 2030 سے پہلے اس ہدف کو پورا نہیں کر سکتا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند