تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایرانی اور آرامکو حملوں میں استعمال ہونے والے طیاروں میں مماثلت ہے: رائیٹزز
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 5 رجب 1441هـ - 29 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 22 ربیع الثانی 1441هـ - 20 دسمبر 2019م KSA 07:58 - GMT 04:58
ایرانی اور آرامکو حملوں میں استعمال ہونے والے طیاروں میں مماثلت ہے: رائیٹزز
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل کمپنی آرامکو کی تنصیبات پرمبینہ ایرانی حملوں کو کئی ماہ گذر گئے ہیں مگر ان حملوں کے حوالے سے حقائق ابھی تک سامنے آ رہے ہیں۔

خبر رساں ایجنسی'رائیٹرز' کی طرف سے جاری کردہ ایک امریکی رپورٹ میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہے کہ آرامکو تنصیبات پرحملوں کے لیے استعمال ہونے والے طیاروں اور ایرانی طیاروں میں غیرمعمولی مماثلت موجود ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہتھیاروں کے ملبے کے تجزیے سے ظاہر ہوا ہے کہ آرامکو کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے ڈرون طیارے شمال سے آئے۔ نیز یہ کہ اس مفروضے کے مزید شواہد اور دلائل موجود ہیں۔

تاہم امریکی رپورٹ میں حتمی طور پراس حملے کے منبع کا انکشاف نہیں کیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائیٹرز' نے گذشتہ ماہ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا تھا کہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے آرامکو تنصیبات پر حملوں کی منظوری دی تھی۔ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ حملوں سے کئی ماہ قبل تہران میں ایک سخت سیکیورٹی والی عمارت میں سپاہ پاسداران انقلاب کے متعدد اجلاس منعقد ہوئے جن میں ایرانی حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے عہدیدار بھی شریک ہوئے۔ ان میں ایرانی میزائل ٹیکنالوجی کے استعمال کے ذمہ دار اور خفیہ آپریشن کے عہدیدار بھی شامل تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اجلاس کا بنیادی موضوع یہ تھا کہ امریکا کو تاریخی جوہری معاہدے سے نکلنے اور ایران پر اقتصادی پابندیاں عاید کرنے کی سزا کیسے دی جائے۔ واضح رہے کہ ایران کے ساتھ طے پائے جوہری سمجھوتے سے ایران کی علاحدگی اور تہران پر اقتصادی پابندیوں کا نفاذ دو ایسے اقدامات تھے جنہوں نے ایرانی رجیم کو ہلاک کر رکھ دیا ہے۔

اجلاس سے پاسداران انقلاب کےسربراہ میجر جنرل حسین سلامی کی موجودگی میں ایک سینیر عہدیدار نے خطاب کیا جس میں انہوں نے امریکا کی طرف سے ایران کے خلاف اقدامات پر جوابی کارروائی پر زور دیا تھا۔

سپریم لیڈر کی طرف سے منظوری

'رائیٹرز' کی رپورٹ میں بتایا چار مصدقہ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اجلاس سے خطاب کرنے والے عہدیدار نے کہا کہ 'اب وقت آگیا ہے کہ ہم اپنی تلواروں نیام سے باہر نکالیں اور انہیں (امریکا اور اس کے اتحادیوں کو) سبق سکھائیں'۔ سخت لیڈروں نےاپنی تقاریر میں امریکا کے خلاف سخت برہمی کا اظہار کیا اور امریکی فوجی اڈوں سمیت انتہائی اہمیت کےحامل اہداف پر حملوں پر زور دیا۔

آخر کار اجلا س طے یہ پایا کہ ایران کا رد عمل ایسا ہونا چاہیے تاکہ امریکا کے ساتھ براہ راست تصادم نہ ہو۔ ورنہ امریکا جوابی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔ اگر براہ راست امریکی تنصیبات پرحملہ کیا جاتا ہے تو امریکا کا جوابی وار زیادہ خوفناک اور تباہ کن ہوگا۔ اس لیے امریکا کے کسی اتحادی کے مفادات کو نشانہ بنایا جائے۔ اس تجویز پر رواں سال مئی میں چار بار ایرانی عہدیداروں نے غورو خوض کیا۔

طویل غور خوض کے بعد طے پایا کہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنایا جائے۔ یہ تجویز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے سامنے پیش کی گئی۔ خامنہ ای نے اس شرط پر اس آپریشن کی منظوری دی کہ اس میں شہریوں اور امریکیوں کو براہ راست نشانہ بنانے سے گریز جائے۔

اگرچہ رائیٹرز نے ذرائع کے حوالے سے مذکورہ منصوبہ بندی کا احوال بیان کیا ہے تاہم اس نے غیر جانب دار ذرائع سے اس کی تصدیق نہیں۔ البتہ پاسداران انقلاب نے اس پر کسی قسم کا تبصرہ کرنےسے انکار کر دیا تھا۔

ایران کی طرف سے تردید

نیویارک میں اقوام متحدہ میں ایرانی سفارتی مشن کے ترجمان علی رضا میر یوسفی نے رائیٹرز کی رپورٹ کو من گھڑت اور بے بنیاد قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران نے آرامکو تنصیبات پرحملوں میں کوئی کردار ادا نہیں کیا ہے۔ اس حوالے سے ایران کے سیکیورٹی اداروں کا نہ تو کوئی اجلاس ہوا اور نہ ہی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے اس کی منظوری دی تھی۔

تہران میں اہم عہدیداروں کے میراتھن اجلاسوں اور حملوں میں خامنہ کے کردار پر مسٹر علی رضا یوسفی نے صاف اور دو ٹوک الفاظ میں کہا تھا کہ ایسا ہرگز نہیں ہوا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کے ایک سینیر عہدیدار نے رائیٹرز کی رپورٹ کے نتائج پر براہ راست کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن کہا ہے کہ تہران کے طرز عمل، اس کی دہائیوں پر پھیلی تباہ کن حملوں کی تاریخ اور دہشت گردی کی پشت پناہی ایرانی معیشت کی تباہی کا اصل سبب ہے۔

تہران میں ایک خفیہ مقام پرمیٹنگ

ایران کے تین اہلکاروں نے رائیٹرز کو بتایا کہ یہ اعلیٰ سول اور سیکیورٹی اداروں کے حکام کی ملاقاتیں تہران کے جنوب میں واقع کمپاؤنڈ کے اندر ایک محفوظ جگہ پر ہوتی رہیں۔ اسی کمپائونڈ کے اندر سپریم لیڈر کی رہائش گاہ جہاں ہونے والی ایک ملاقات میں خامنہ ای بھی شریک ہوئے۔

ان تینوں عہدیداروں نے مزید کہا کہ ان ملاقاتوں میں شرکت کرنے والوں میں خامنہ کے اعلی فوجی مشیر یحیی رحیم صفوی اور پاسداران انقلاب کے بیرون ملک آپریشنز کی نگرانی کرنے والے قاسم سلیمانی کے ایک نائب بھی موجود تھے۔ اس حوالے سے جب رحیم صفوی سے بات کی گئی تو انہوں نے کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

ان ملاقاتوں سے با خبر ذریعے نے بتایا کہ ابتدائی طور پر جن ممکنہ اہداف پر تبادلہ خیال کیا گیا ان میں سعودی عرب کی ایک بندرگاہ پر توجہ مرکوز کی گئی تھی تاہم ذرائع نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔

ان چاروں عہدیداروں نے کہا کہ بندرگاہ پرحملے کی تجویز کو پربھاری جانی نقصان کے خدشے کے سبب مسترد کردیا گیا۔ کیونکہ ایسے حملے کی صورت میں امریکا کی طرف سے سخت رد عمل آنے کا اندیشہ تھا۔

معاشی نقصان .. اور ایک مضبوط پیغام

اس فیصلے سے واقف عہدیدارنے بتایا کہ آخر کار ایرانی عہدیداروں نے سعودی عرب میں تیل کی دو تنصیبات پر حملہ کرنے کے منصوبے پراتفاق کیا۔ یہ حملہ میڈیا میں شہ سرخیوں کا باعث بننے کے ساتھ امریکی اتحادی ملک کی معیشت کے لیے نقصان دہ ہونے کا ذریعہ ثابت ہوگا اور امریکا کو بھی اس کارروائی سے سخت پیغام جائے گا۔

عہدیدار نے بتایا کہ آرامکو کی تنصیبات پرحملے پر تمام عہدیداروں نے اتفاق کیا۔اس حملے کے پیچھے یہ تصور بھی تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں کو یہ پیغام دیا جائے کہ تہران کس حد تک گہرائی میں جا سکتا ہے اور اس کے پاس دشمن کے خلاف کارروائیوں کے لیے کیسی فوجی صلاحیت موجود ہے۔

ایرانی اڈے سے میزائل

نیوز ایجنسی 'رائیٹرز' کا کہنا ہے کہ یہ انکشافات ایک ایسے ایرانی عہدیدار نے کیے نہ صرف اس سارے منصوبے سے آگاہ تھا بلکہ اس طرح کے آپریشن کی باریکیوں کو بھی جانتا ہے۔ وہ سیٹلائٹ سے لی گئی تصاویر کی روشنی میں کارروائی کےبجائے حملے کے مقامات سے مکمل طور پر آگاہ تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ڈرون اور میزائل ایرانی اڈے سے آئے، اس طرح اس کارروائی میں ایرانی سرزمین استعمال کی گئی۔

مشرق وسطی کے ایک ماخذ جسے حملے کی تفتیش کرنے والے ایک ملک نے بریفنگ دی نے بتایا کہ آرامکو تنصیبات پرحملے کے لیے جنوب مغربی ایران میں واقع اہواز فضائیہ کے اڈے کو استعمال کیا گیا۔ اس مفروضے کی تصدیق تین امریکی عہدیداروں،دو مغربی انٹیلی جنس عہدیداروں اور مشرق وسطی میں کام کرنے والے ایک مغربی ذریعے نے بھی کی تھی۔

فیصلہ ساز حلقوں کے قریبی اہلکار کے مطابق پاسداران انقلاب کے عہدیداروں نے کامیاب حملے کے بعد سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو اس کے بارے میں تفصیلی بریفنگ بھی دی تھی۔

اربوں ڈالر کی اقتصادی پابندیاں

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان امریکا ، روس ، فرانس ، چین ، اور برطانیہ کے ساتھ ساتھ جرمنی بھی ایران کے ساتھ معاہدے میں شامل ہوا۔ ایران کے جوہری پروگرام پرکڑی شرائط عاید کیں اور اس کے بدلے میں تہران پرعاید کی اربوں ڈالر کی اقتصادی پابندیاں اٹھائی گئی۔

سعودی وزارت دفاع کی جانب سے پیش کردہ تصاویر میں آرمکو حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے ٹھوس اور ناقابل تردید ثبوت پیش کیے گئے۔

امریکا کی طرف سے ایران کے ساتھ طے پائے معاہدے سے علاحدگی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے ایک نیا اور بہتر سمجھوتا کرنے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ امریکی پابندیوں کے اثرات کم کرنے، تیل کی برآمدات مفلوج ہونے ایران اور عالمی بینکنگ کے نظام میں تنہا ہونے کی کیفیت ختم کی جاسکے مگر ایران نے متبادل سمجھوتے کی کی کوئی تجویز قبول نہیں کی۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے امریکی عہدیداروں سے ملاقات کے لیے رضامندی کا اشارہ اس شرط پر دیا ہے کہ پہلے امریکا ایران پر عاید تمام پابندیاں ختم کرے۔

حالیہ مہینوں میں ایران نے ایک امریکی جاسوس طیارے کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں برطانوی آئل ٹینکر کو قبضے میں لے لیا۔ تہران نے جوہری معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افزودہ یورینیم کے ذخیرے تشکیل دینے کا اعلان کیا اس کے ساتھ ایران نے اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ فعال بنانے پر کام شروع کردیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند