تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'یو این' 'آرامکو' حملوں کی تحقیقاتی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کرے گی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 23 ربیع الثانی 1441هـ - 21 دسمبر 2019م KSA 10:03 - GMT 07:03
'یو این' 'آرامکو' حملوں کی تحقیقاتی رپورٹ سلامتی کونسل میں پیش کرے گی
دبئی ۔ العربیہ

اقوام متحدہ کی انڈر سکریٹری جنرل 'روزمری ڈی کارلو' نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ سعودی عرب میں آرامکو تنصیبات پر حملوں سے متعلق ایک تحقیقاتی رپورٹ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرے گی۔

دوسری طرف امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹگاس نے اس بات کی تصدیق کی کہ واشنگٹن کسی بھی نئی ایرانی جارحیت کے خلاف سعودی عرب کو مکمل اور ضروری مدد فراہم کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا تہران کی دھمکیوں کے خلاف سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوگا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی طرف سے 'آرامکو' تنصیبات پرحملوں سے متعلق رپورٹ ایک ایسے وقت میں سلامتی کونسل میں پیش کرنے کا اعلان کیا گیا ہے جب حال ہی میں امریکا نے بھی ایک رپورٹ جاری کی ہے۔ خبر رساں ادارے'رائیٹرز' کے ذریعے سامنے آنے والی رپورٹ میں آرامکو تنصیبات پر حملوں میں ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے شواہد اور اسلحے کی باقیات کے تجزیے کا جائزہ لیا گیا جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ حملہ سعودی عرب کی شمالی سرحد کی طرف سے کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ایرانی طیاروں اور آرامکو تنصیبات پرحملوں میں استعمال ہونے والے طیاروں کے درمیان گہری مماثلت پائی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کی انڈرسکریٹری جنرل 'روزمری ڈی کارلو'

خبر رساں ادارے رائیٹرز نے گذشتہ ماہ ایک تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ سعودی عرب کی تیل تنصیبات پرحملوں نے ایران میں کئی ماہ قبل منصوبہ بندی کی گئی۔ اس منصوبے کی ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے بھی باضابطہ منظوری دی تھی۔

اقوام متحدہ کی انڈرسکریٹری جنرل 'روزمری ڈی کارلو'

ایجنسی کا کہنا تھا کہ "ڈرون" طیاروں کے ذریعے سعودی عرب کی آرامکو کمپنی کی تیل کی تنصیبات پر حملے سے چار ماہ قبل ایرانی سیکیورٹی حکام تہران کی ایک سخت سیکیورٹی، خفیہ آپریشن انجام دینے کے والے سینیر افسران اور میزائل کے شعبے کے عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اس بات پرغورکرنا تھا کہ امریکا کی طرف سے جوہری سمجھوتے سے علاحدگی اور ایران پر اقتصادی پابندیوں کے نفاذ کا جواب کیسے دیا جائے۔ آخر کا یہ طے پایا کہ امریکا کے اتحادی سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنا کر ایران اپنا پیغام دینے کے ساتھ امریکا کے جوابی غیض وغضب سےبھی بچ سکتا ہے۔ اگر براہ راست امریکی مفادات کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو امریکا رد عمل سخت ہوگا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند