تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یورپی یونین کی ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کو برسلز میں بات چیت کی دعوت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: اتوار 9 جمادی الاول 1441هـ - 5 جنوری 2020م KSA 16:44 - GMT 13:44
یورپی یونین کی ایرانی وزیرخارجہ جواد ظریف کو برسلز میں بات چیت کی دعوت
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف
برسلز ۔ ایجنسیاں

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزف بورل نے ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو مشرقِ اوسط کی صورت حال پر غور کے لیے برسلز میں بات چیت کی دعوت دی ہے۔

یورپی یونین نے اتوار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جوزف بورل نے اختتامِ ہفتہ پر جواد ظریف سے بات چیت میں مشرقِ اوسط میں کشیدگی کے خاتمے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ایک علاقائی سیاسی حل ہی آگے بڑھنے کا واحد راستہ ہے۔‘‘انھوں نے 2015ء میں ایران سے طے شدہ جوہری سمجھوتے کو برقرار رکھنے کی ضرورت پر زوردیا ہے۔

جوزف بورل نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ رابطہ کار کے طور پر اپنا مکمل کردار ادا کرتے رہیں گے، سمجھوتے کے باقی فریقوں کے درمیان اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کرتے رہیں گےاور تمام فریقوں پر اس کے مکمل نفاذ کی ضرورت پر زوردیں گے۔

واضح رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مئی 2018ء میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے یک طرفہ طور پر جوہری سمجھوتے سے علاحدگی کے فیصلے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہوا تھا۔امریکی صدر نے نومبر2018ء میں ایران کے خلاف دوبارہ سخت پابندیاں عاید کردی تھیں۔

ایران نے اس کے ردعمل میں مرحلہ وار جوہری سمجھوتے کی شرائط سے دستبردار ہونا شروع کردیا تھا۔اب گذشتہ جمعہ کو بغداد میں امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا ماحول پیدا ہوگیا ہے اور دونوں ہی ایک دوسرے کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی شب کہا تھا کہ اگر ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے انتقام میں امریکی اہلکاروں یا اثاثوں کو نقصان پہنچایا تو اس کو پہلے سے کہیں سخت انداز میں نشانہ بنایا جائے گا۔انھوں نے ایران کے اندر باون اہداف کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے۔

صدر ٹرمپ نے بغداد میں گذشتہ ہفتے امریکی سفارت خانے پر مسلح ملیشیاؤں کے حملے کے بعد جنرل قاسم سلیمانی پر ڈرون حملے کا حکم دیا تھا۔انھوں نے مقتول ایرانی جنرل پر عراق میں امریکی سفارت کاروں اور فوجیوں پر حملوں کی منصوبہ بندی کا بھی الزام عاید کیا ہے جبکہ بعض امریکی عہدے داروں کا کہنا ہے کہ جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف کارروائی حفظ ماتقدم کے طور پر کی گئی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند