تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
انقرہ اور دمشق کے درمیان سیکورٹی رابطے منقطع نہیں ہوئے : ترک اخبارات
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 21 جمادی الاول 1441هـ - 17 جنوری 2020م KSA 09:36 - GMT 06:36
انقرہ اور دمشق کے درمیان سیکورٹی رابطے منقطع نہیں ہوئے : ترک اخبارات
العربیہ ڈاٹ نیٹ

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق ماسکو میں چند روز قبل ترکی کے انٹیلی جنس سربراہ حقان فیدان اور شامی حکومت کے قومی سلامتی کے ڈائریکٹر علی مملوک کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سام سے متعلق امور پر بات چیت ہوئی تاہم ملاقات پر کوئی سیاسی چھاپ نہیں تھی۔

ترکی کے اخبار "حُريت" نے جمعرات کے روز بتایا کہ گذشتہ تمام عرصے میں انقرہ اور دمشق کے بیچ سیکورٹی تعلقات منقطع نہیں ہوئے .. کبھی یہ براہ راست واقع ہوتے رہے اور کبھی روسی وساطت سے بالواسطہ دیکھنے میں آئے۔

اخبار کے مطابق دونوں ملکوں کے انٹیلی جنس ادارے ماسکو ملاقات سے قبل تک زمینی طور پر بات چیت کرتے رہے۔ شام کی فضائی حدود کا استعمال انٹیلی جنس اداروں کے درمیان ہونے والی بات چیت کے اہم ترین موضوعات میں سے تھا۔ اس کے علاوہ دیگر امور بھی زیر بحث آئے جن میں داعش تنظیم کا انسداد، مسلح کرد یونٹوں کی سرگرمیاں اور ادلب میں شامی عوام کو درپیش عقوبت اور کریک ڈاؤن کا خاتمہ شامل ہے۔

فیدان اور مملوک کے درمیان ملاقات کے سلسلے میں رابطہ کاری کے حوالے سے اخبار نے انکشاف کیا کہ یہ ملاقات روس کی درخواست پر منعقد ہوئی۔ ترک اخبار کے مطابق بات چیت میں کوئی سیاسی پہلو شامل نہیں تھا۔ اجلاس کے مرکزی موضوعات میں صرف شام میں زمینی صورت حال پر روشنی ڈالی گئی۔

اس موقع پر ترکی کے وفد نے شامی وفد کو باور کرایا کہ ترکی کی سیکورٹی کی اولین ترجیح کے طور پر مسلح کرد یونٹوں کے خلاف کارروائی جاری رکھی جائے گی۔

اخبار کا کہنا ہے کہ ادلب کا معاملہ فریقین کے بیچ بات چیت کی میز پر تھا۔ انقرہ نے وہاں فائر بندی کے جاری رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ آئندہ مرحلے میں بھی فریقین کے درمیان انٹیلی جنس سربراہان کی سطح پر رابطے جاری رہنے کی توقعات ہیں۔

دوسری جانب ترکی میں اپوزیشن کے اخبار "آيدنليک" کے مطابق فرات کے مشرق میں واقع علاقہ فیدان اور مملوک کے درمیان ملاقات کے ایجنڈے میں شامل تھا۔ فریقین نے 9 نکات پر مشتمل فریم ورک پر اتفاق رائے کیا۔

اخبار کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس سطح پر مذکورہ ملاقات چند روز قبل روسی صدر ولادی میر پوتین کے ترکی کے دورے کے چند روز بعد سامنے آئی۔ روسی صدرنے اپنے ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے مطالبہ کیا تھا کہ شامی حکومت کے ساتھ رابطوں کو بلند ترین سطح تک لے جایا جائے۔

ملاقات میں شامی فریق نے ترکی کے فریق سے مطالبہ کیا کہ ادلب کے حوالے سے سوچی مفاہمتی یادداشت کا اطلاع عمل میں لایا جائے اور "دہشت گرد تنظیموں" کو غیر مسلح کر کے انہیں بے دخل کیا جائے۔ ملاقات میں روس کے نمائندے بھی موجود تھے۔

اس سے قبل شامی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA نے کرد یونٹوں کے حوالے سے مملوک اور فیدان کے درمیان کسی بھی معاہدے کی تردید کی تھی۔ ایجنسی نے بتایا تھا کہ دونوں شخصیات کی بات چیت شام کے اس مطالبے تک محدود رہی جس میں شام کی اراضی سے ترک افواج کے نکل جانے اور شام کی خود مختاری اور اس کی اراضی کی وحدت کے احترام پر زور دیا گیا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند