تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی نے طرابلس کو جدید فوجی سازو سامان بھیجنا شروع کر دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 27 جمادی الثانی 1441هـ - 22 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 21 جمادی الاول 1441هـ - 17 جنوری 2020م KSA 07:17 - GMT 04:17
ترکی نے طرابلس کو جدید فوجی سازو سامان بھیجنا شروع کر دیا
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

عالمی تنقید اور مخالفت کے باجود ترکی کی حکومت لیبیا کی متنازع قومی وفاق حکومت کی عسکری اور مادی مدد جاری رکھے ہوئے ہے۔ 'العربیہ' نیوز چینل کو ایک ذمہ دار ذرائع نے جمعرات کی شام اطلاع دی ہے کہ ترکی نے دارالحکومت طرابلس میں الوفاق حکومت کے وفادار ملیشیا کو مواصلاتی آلات اور دیگر جنگی سازوسامان بھیجنے کے علاوہ لیبیا میں نئی فوجی اور دفاعی رسد بھیجنا بھی شروع کر دی ہے۔

ترکی نے ایلیٹ فورس کے 40 اہلکاروں اور عسکری مشیران کی بڑی تعداد طرابلس بھیجی ہے، دوسری طرف تربیت کے لیے قومی وفاق حکومت کے بعض فوجی افسران کو ترکی بھیجا گیا ہے۔

دوسری طرف لیبیا کی نیشنل آرمی نے ترکی کی مداخلت پر عالمی برادری کو اپنے غم و غصے سے آگاہ کیا ہے۔ لیبی فوج کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر ترکی کی طرف سے لیبیا میں فوجی مداخلت جاری رہتی ہے تو نیشنل آرمی دفاع وطن کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے گ۔

جرمنی میں ایک کانفرنس میں شرکت سے قبل لیبیا کی نیشنل آرمی کے سربراہ جنرل خلیفہ حفتر نے ترکی سے طرابلس کو فوجی کمک فراہم کرنے سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔

ادھرلیبیا میں نیشنل آرمی کے حامی بعض عرب اور ان کے اتحادی دوسرے ممالک نے صلاح مشورہ شروع کیا ہے کہ لیبیا میں جنگجو بھیجنے والے ممالک پر پابندیاں عاید کی جائیں گی۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوآن نے جمعرات کے روز لیبیا کے بحران کے حل کے لیے برلن کانفرنس سے قبل لیبیا کی قومی وفاق حکومت کی مدد کے حوالے سے اپنے موقف کا اعادہ کیا اور کہا کہ انقرہ جلد ہی طرابلس کو مزید فوجی مدد فراہم کرے گا۔

انقرہ میں تقریر کرتے ہوئے اردوآن نے مزید کہا کہ ان کا ملک لیبیا سمیت خطے کے جنوب میں استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تمام سفارتی اور فوجی ذرائع استعمال کرتا رہے گا۔ صدر ایردوآن اتوار کے روز لیبیا کے بحران پر جرمنی ، روس ، برطانیہ اور اٹلی کے رہنماؤں سے ملاقات کرنے والے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند