تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے باوجود ایران دہشت گردی سے باز نہیں آئے گا: ترکی الفیصل
عراق اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا موقع مناسب نہیں
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 23 ذوالحجہ 1441هـ - 13 اگست 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 21 جمادی الاول 1441هـ - 17 جنوری 2020م KSA 19:27 - GMT 16:27
قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے باوجود ایران دہشت گردی سے باز نہیں آئے گا: ترکی الفیصل
عراق اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کا موقع مناسب نہیں
شہزادہ ترکی الفیصل، سابق سربراہ سعودی انٹلیجنس
واشنگٹن - بندر الدوشی

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف شہزادہ ترکی الفیصل نے 'سی این بی سی' کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ایرانی رجیم قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے باوجود دہشت گردی اور خطے میں مداخلت سے باز نہیں آئے گی۔ انہوں نے عراق سے امریکی فوج کے ممکنہ انخلاء پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکی فوج کے نکل جانے سے خطے میں عدم استحکام میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے۔

اپنے انٹرویو میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ بغداد میں امریکا کے فضائی حملے میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت سے یہ تو واضح ہوا ہے کہ ایران خطے میں اپنی اشتعال انگیزیوں میں بچ نہیں سکتا مگر سلیمانی کی ہلاکت ایران کو خطے میں اس کے تخریبی کردار اور دہشت گردانہ ایجنڈے سے باز نہیں رکھ سکے گی۔

شہزادہ ترکی الفیصل کا کہنا تھا کہ قاسم سلیمانی کی ہلاکت خطے میں ایرانی اشتعال انگیزعزائم کی ناکامی کے حوالے سے اہم ہے اور ایران کو اس ہلاکت سے ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کی 'آرامکو' تیل تنصیبات اور آئل ٹینکروں پر ایرانی حملوں پر تہران کو کوئی ٹھوس جواب نہیں دیا گیا۔ قاسم سلیمانی کی ہلاکت ایرانی حکومت اور لیڈرشپ کے لیے ایک پیغام اور بیداری کی دعوت ہے۔ اس واقعے سے ایران کویہ پیغام دیا گیا ہے کہ وہ اس کی اشتعال انگیزیوں کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں اور ایران سزا سے بچ نہیں سکتا۔

ایک سوال کے جواب میں شہزادہ ترکی الفیصل نے کہا کہ سلیمانی کی ہلاکت سےایران کے تخریب کارانہ ایجنڈے کو لگام نہیں دی جاسکے گی۔ البتہ اس ہلاکت سے سلیمانی کے مخصوص انداز اور طریقہ کارکوآگے بڑھانے میں ایران کو مشکلات پیش آئیں گی۔

سعودی عرب کے سابق انٹیلی جنس چیف کا کہنا ہے کہ ایران کا پورے عالم اسلام پرغلبے کا مخصوص ایجنڈا ہے اور ایران اس ایجنڈے کو آگے بڑھا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران خطے کو عدم استحکام سے دوچارکرنے کے لیے خطے کے اپنے ایجنٹوں لبنانی حزب اللہ، یمن کے حوثیوں اور دیگر دہشت گرد گروپوں کو 'پراکسی' وار کے طورپر استعمال کر رہا ہے۔

انہوں نے افغانستان اور عراق سے امریکی انخلا کے خلاف پر متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ 2011 میں القاعدہ کے رہ نما اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد امریکا افغانستان سے باعزت طریقے سے نکل سکتا تھا مگر اس نے وہ موقع کھو دیا۔ موجودہ حالات امریکی فوج کے عراق اور افغانستان سے انخلاء کے لیے موزوں نہیں ہیں۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا امریکا کو عراق سے فوج واپس بلانی چاہیے تو انہوں نے کہا کہ "آج نہیں"۔ انہوں نے امریکی اور برطانوی عہدیداروں سے عراق پر امریکی حملے کے وقت کی گئی بات یاد دلائی اور کہا کہ میں نے اس وقت کہا تھا کہ امریکا جس طریقے سے عراق پرحملہ آور ہوا اس طرح واپس نہیں جائے گا۔

 

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند