تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
اصلاحات کے بغیر کوئی امداد نہیں ملے گی: امریکا کا لبنان کو انتباہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م KSA 10:59 - GMT 07:59
اصلاحات کے بغیر کوئی امداد نہیں ملے گی: امریکا کا لبنان کو انتباہ
واشنگٹن ۔ بيئر غانم

لبنان کو تین ماہ سے زیادہ عرصے سے وسیع مالیاتی اور حکومتی بحران کا سامنا ہے۔ سعد حریری کی حکومت مستعفی ہو چکی ہے اور نامزد وزیراعظم نئی حکومت تشکیل دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

امریکا نے لبنان میں نئی حکومت کے ممکنہ اعلان سے قبل ہی دو ٹوک انداز میں اپنے موقف کا اظہار کر دیا ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار کا کہنا ہے کہ "کوئی بھی ایسی حکومت جو افعال کے ذریعے خود کو ثابت کرے"۔

امریکی موقف سے یہ نظر آرہا ہے کہ واشنگٹن لبنانی حکومت کی سربراہی کے حوالے سے کسی مخصوص شخصیت کو نہیں چاہتا بلکہ وہ ایسی حکومت کا خواہاں ہے جو لبنانی عوام اور عالمی برادری کے مطالبات کو پورا کرے۔

امریکی انتظامیہ ایک سے زیادہ مرتبہ بلا واسطہ اور بالواسطہ طور پر یہ بات دہرا چکی ہے کہ وہ نگراں حکومت کے سربراہ سعد حریری کے ساتھ دوستانہ تعلقات رکھتی ہے تاہم درحقیقت وہ لبنانی حکومت سے جو چیز چاہتی ہے وہ "اصلاحات" ہیں۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ "ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ لبنانی رہ نماؤں اور سربراہان کو ضروری اصلاحات کی پاسداری کرنا ہو گی، ملک میں پھیلی بدعنوانی پر قابو پانے کے حوالے سے لبنانی عوام کے مطالبات پورے کرنا ہوں گے اور بہتر طرز حکومت اور اقتصادی مواقع کے حوالے سے مثبت پیش رفت کو یقینی بنانا ہو گی"۔

لبنان کو اس وقت کئی چیلنج درپیش ہیں جن میں اولین مشکل ریاست کے بجٹ کا ضخیم خسارہ ہے۔ اس خسارے نے بینکنگ سیکٹر کو تقریبا دیوالیہ کر ڈالا ہے۔ مالیاتی ماہرین کے مطابق لبنانی بینکوں میں جمع شدہ رقم کا مجموعی حجم 170 ارب ڈالر تک پہنچتا ہے۔ گذشتہ برسوں کے دوران لبنان کے مرکزی بینک اور ریاست نے بینکوں سے 130 ارب ڈالر کا قرضہ لیا۔ تاہم بجٹ کے بڑے خسارے کے سبب ریاست اپنی طے شدہ پاسداریوں کو پورا کرنے اور قرضوں کو واپس کرنے سے قاصر ہے۔

اس سلسلے میں لبنان کی نئی حکومت کو مختلف سیکٹروں بالخصوص بجلی اور توانائی کے سیکٹر میں "فرضی" کارکنان سے نجات حاصل کرنا ہو گی۔ یہ لوگ ہر ماہ ریاست سے تنخواہیں وصول کرتے ہیں مگر کام نہیں کرتے۔ ایسے ہزاروں کارکنان یا تو سیاسی سربراہان کے حامی یا پھر حزب اللہ ملیشیا کے عناصر ہیں۔ یہ لوگ ریاست کے خزانے سے مالی رقوم حاصل کر رہے ہیں اور ایران کی تابع ملیشیا کے مفاد میں کام کرتے ہیں۔

امریکی حکومت نے اپنی وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار کی زبانی لبنان کی آئندہ حکومت کو خبردار کیا ہے۔ مذکورہ ذمے دار نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ "حکومت تنہا ہی نمایاں اصلاحات کرنے پر قادر ہے۔ وہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کر سکتی ہے اور لبنان کے لیے بین الاقوامی امداد کا دروازہ کھول سکتی ہے"۔ ذمے دار کے مطابق اس معاملے کے حوالے سے بین الاقوامی مفاہمت موجود ہے اور حکومت کی جانب سے حقیقی اصلاحات کے سوا بین الاقوامی امداد کا کوئی راستہ نہیں۔

امریکی ذمے دار کے اس بیان میں واشنگٹن حکومت کی جانب سے لبنانیوں کے لیے ایک اور تنبیہ ہے کہ "ایک قابل اعتماد حکومت پر لازم ہے کہ وہ تمام لبنانیوں کے لیے کام کرے۔

اس بیان سے واضح ہو رہا ہے کہ امریکی انتظامیہ اس بات کی خواہش مند ہے کہ نئی لبنانی حکومت کو سنی سربراہان اور رہ نماؤں کی موافقت حاصل ہو۔ لبنان کے سابق وزراء اعظم فؤاد السنيورہ، نجيب ميقاتی اور تمام سلام بارہا یہ موقف دہرا چکے ہیں کہ وہ ایسے کسی بھی وزیراعظم کو قبول کرنے پر راضی نہیں جس کو صدرِ جمہوریہ اپنے سیاسی حلیفوں بالخصوص حزب اللہ کی موافقت سے مسلط کر دیں جب کہ یہ لبنانی سنی رہ نماؤں کی جانب سے نامزد کردہ نہ ہو۔

امریکیوں نے اس موقف کے ذریعے واضح کر دیا ہے کہ واشنگٹن انتظامیہ اپنی جانب سے وضع کردہ شرائط پر عمل درامد کی صورت میں ہی لبنان کے آئندہ وزیراعظم اور ان کی حکومت کے ساتھ معاملات کرے گی۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند