تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبیا میں آئل فیلڈز کی بندش عوام کا عظیم اقدام ہے: احمد المسماری
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م KSA 12:54 - GMT 09:54
لیبیا میں آئل فیلڈز کی بندش عوام کا عظیم اقدام ہے: احمد المسماری
بنغازی (ليبيا) ۔ ایجنسیاں

لیبیا میں قومی فوج کے ترجمان میجر جنرل احمد المسماری کا کہنا ہے کہ بندرگاہوں اور آئل فیلڈز کی بندش لیبیا کے عوام کی جانب سے ایک عظیم اقدام ہے۔ جمعے کے روز جاری بیان میں انہوں نے کہا کہ "لیبیا کے عوام نے ہی بندرگاہوں اور آئل فیلڈز کو تالے لگا کر تیل کی برآمدات روکی ہیں۔ ہمارے ذمے لازم ہے کہ اپنے عوام کا اور عوام کے تمام عناصر کو تحفظ فراہم کریں اور کسی کو بھی عوام کے لیے خطرہ نہ بننے دیں"۔

دوسری جانب لیبیا میں نیشنل آئل کارپوریشن کے ایک ذریعے نے جمعے کے روز بتایا کہ ہفتے کے روز سے ملک کی مشرقی اور وسطی بندرگاہوں سے خام تیل کی برآمد روک دی جائے گی۔ اس کے نتیجے میں برآمدات کی مد میں یومیہ 7 لاکھ بیرل تیل کا خسارہ ہو گا۔ ذریعے نے بتایا کہ زويتينہ کی بندرگاہ کے سوا بقیہ بندرگاہوں کی بندش خلیفہ حفتر کے زیر قیادت نیشنل آرمی کے حکم پر کی گئی۔ ملک کے مشرقی اور وسطی حصے پر لیبیا کی نیشنل آرمی کا کنٹرول ہے۔

اس سے قبل زویتینہ کی بندرگاہ پر ایک انجینئر نے رائٹرز کو بتایا کہ مظاہرین جمعے کے روز بندرگاہ میں داخل ہو گئے اور انہوں نے بندرگاہ بند کرنے کا اعلان کر دیا۔

واضح رہے کہ لیبیا کے مشرق اور جنوب میں قبائلی عمائدین نے احتجاجا بندرگاہوں کی بندش کا مطالبہ کیا تھا۔ عمائدین کے مطابق وفاق حکومت تیل کی آمدنی سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے اسے غیر ملکی جنگجوؤں کو رقوم کی ادائیگی کے لیے استعمال کر رہی ہے۔

جرمنی کے دارالحکومت برلن میں اتوار کے روز لیبیا کے حوالے سے ایک کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد زمینی جنگ بندی کا قیام اور غیر ملکی مداخلت کو روکنا شامل ہے۔ اس مداخلت میں بالخصوص عسکری سپورٹ شامل ہے۔

اسی طرح کانفرنس کے مقاصد میں متحارب فریقوں کے لیے ہتھیاروں کی درآمد پر پابندی کی تجویز اور لیبیا کے بحران کے حل کے لیے بین الاقوامی سیاسی موافقت سے ایک حل تلاش کرنا شامل ہے۔

لیبیا کا شمار براعظم افریقا میں تیل کے سب سے بڑے ذخائر رکھنے والے ایک ملک کے طور پر ہوتا ہے۔ سال 2011 میں معمر قذافی کی حکومت کے سقوط کے بعد سے لیبیا تشدد اور اقتدار کے تنازعات سے دوچار ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق حالیہ لڑائی کے نتیجے میں 280 سے زیادہ افراد اور 2 ہزار سے زیادہ جنگجو اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں جب کہ 1.46 لاکھ افراد نقل مکانی کر گئے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند