تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
لیبیا کی اہم شخصیات کی سیکیورٹی ترک ایلیٹ فورس کے حوالے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 ذیعقدہ 1441هـ - 16 جولائی 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 22 جمادی الاول 1441هـ - 18 جنوری 2020م KSA 07:33 - GMT 04:33
لیبیا کی اہم شخصیات کی سیکیورٹی ترک ایلیٹ فورس کے حوالے
ترک سپیشل فورسز۔ [فائل فوٹو]
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لیبیا کی قومی وفاق حکومت کے لیے ترکی کی طرف سے فوجی امداد کے تسلسل میں ذرائع نے العربیہ اور الحدث چینلوں کو بتایا ہے کہ طرابلس کی اہم حکومتی شخصیات کی سیکیورٹی کی ذمہ داری ترکی کی ایلیٹ فورس کے اہلکاروں کو سونپی گئی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ تُرکی شامی عسکریت پسند گروہوں کے عناصر کو لیبیا میں لڑنے کے لیے جنگی تربیت دے رہا ہے۔ ترکی کی شہریت رکھنے والے شامی باشندے لیبیا میں جنگی گروپوں کی قیادت کررہے ہیں۔ ترکی کی خصوصی دستے الوفاق حکومت میں شامل شخصیات کے تحفظ کے لیے طرابلس پہنچ گئے ہیں اور انہیں اہم شخصیات کی سیکیورٹی پر تعینات کیا گیا ہے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ حمزہ العمر ایک شامی شہری ہے جس نے تقریبا سات ماہ قبل ترکی کی شہریت حاصل کی تھی۔ اسے لیبیا میں بھیجا گیا ہے جو شامی عسکریت پسندوں کی رہنمائی پر مامور ہے۔

ذرائع نے العربیہ کو مزید بتایا کہ ترکی نے شام کے چار گروپوں کو عسکری تربیت فراہم کی ہے۔ ہر گروپ 35 جنگجوئوں پر مشتمل ہے۔ انہیں شہروں کے اندر گوریلا لڑائی کی خصوصی تربیت فراہم کی گئی ہے۔

ذرائع نے بتایا کہ شامی جنگجوئوں کو ترکی میں مختلف تربیتی کورسز کے عمل سے گذارا جاتا ہے۔ بعض کو 14 دن تک تربیت دی گئی۔ کچھ جنگجوئوں کو 21 اوربعض کو45 دن کی ٹریننگ دی گئی۔ انہیں اسٹریٹ وار کی خصوصی تربیت دی گئی تاکہ جنرل خلیفہ حفتر کی فوج کے طرابلس میں داخلے کے بعد دو بہ دو لڑائی میں اس کا مقابلہ کیا جا سکے۔ ترکی میں جنگی تربیت پانے والے جنگجوئوں میں کئی ایسے عناصر بھی ہیں جو ماضی میں بھی ٹریننگ لے چکے ہیں۔ انہیں ترکی میں ازمیر کیرشھر اور کوچا کے مقامات پر قائم کیمپوں میں تربیت دی جاتی ہے۔

ذرائع نے ترکی اور الوفاق حکومت کے مابین ہونے والے معاہدے کے بارے میں بات کی جس میں اس بات کی ضمانت دی گئی ہے کہ انقرہ لیبیا کے علاقوں کے اندر ترک فوجی دستوں کی موجودگی کے پورے عرصے کے لیے رقوم حاصل کرے گا۔ترکی نے خشکی اور پانی میں لڑنے والے میرینز کی تعیناتی کا بھی فیصلہ کیا ہے تاکہ طرابلس حکومت کو نیشنل آرمی طرف سےلاحق خطرات کا مقابلہ کرنے میں اس کی مدد کی جاسکے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند