تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب: یمن میں حوثی باغیوں کے مسجد پرتباہ کن میزائل حملے کی مذمت
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 2 رجب 1441هـ - 26 فروری 2020م
آخری اشاعت: پیر 24 جمادی الاول 1441هـ - 20 جنوری 2020م KSA 15:27 - GMT 12:27
سعودی عرب: یمن میں حوثی باغیوں کے مسجد پرتباہ کن میزائل حملے کی مذمت
مآرب میں حوثیوں کے میزائل حملے میں زخمی ہونے والے فوجی اسپتال میں زیرعلاج ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی وزارتِ خارجہ نے یمن کے شہر مآرب میں ایران نواز حوثی دہشت گرد باغیوں کے ایک مسجد پر میزائل حملے کی مذمت کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت خارجہ نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ’’دہشت گرد ملیشیا کے عبادت گاہ پر دہشت گردی کے حملے سے واضح ہوتا ہے کہ اس کے نزدیک مقدس مقامات کا کوئی تقدس ہے اور نہ یمنی خون کی کوئی قدرواہمیت۔‘‘

’’اس طرح کی دہشت گردی کی تباہ کن کارروائیوں کے ذریعے یمن میں جاری بحران کے سیاسی حل کی کوششوں کو جان بوجھ کر نقصان پہنچایا جارہا ہے۔‘‘بیان میں مزید کہا گیا ہے۔

ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے ہفتے کے روز مآرب میں یمنی فوج کے ایک کیمپ پر ڈرون سے میزائل داغے تھے۔اس حملے میں مرنے والوں کی تعداد بڑھ کر ایک سو سولہ ہوگئی ہےاور اکاسی افراد زخمی ہوگئے تھے۔ حوثی باغیوں کا یمن میں گذشتہ پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے دوران میں یہ سب سے تباہ کن حملہ تھا۔

حوثیوں نے اس ڈرون اور میزائل حملے میں مآرب میں یمنی فوج کے ایک اڈے پر واقع مسجد اور گودام کو نشانہ بنایا تھا۔ہفتے کے روز حملے میں ستر افراد ہلاک اور کم سے کم ڈیڑھ زخمی ہوئے تھے۔بعض شدید زخمی گذشتہ دو روز میں اسپتال میں دم توڑ گئے ہیں۔عسکری ذرائع کے مطابق مہلوکین میں صدارتی گارڈ کے فورتھ بریگیڈ کے اہلکار اور فضائیہ کے فوجی بھی شامل ہیں۔

حوثیوں نے یہ حملہ سپاہ پاسداران انقلاب ایران کی القدس فورس کے کمانڈر میجر جنرل قاسم سلیمانی کی تین جنوری کو عراق کے دارالحکومت بغداد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک امریکا کے ایک ڈرون حملے میں ہلاکت کے دو ہفتے کے بعد کیا تھا۔

یمن کے وزیراطلاعات معمرالاریانی نے اتوار کو ایک ٹویٹ میں مآرب میں حوثی شیعہ باغیوں کے سرکاری فوج کے ایک کیمپ پر ڈرون اور میزائل حملے کو ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے انتقام میں کارروائی قراردیا تھا اوراقوام متحدہ سے اس حملے کی مذمت کا مطالبہ کیا تھا۔

ان کے اس مطالبے کے بعد اقوام متحدہ نے ایک بیان میں کہا کہ اس حملے سے یمن میں گذشتہ پانچ سال سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے امن عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور اس میں رکاوٹیں حائل ہوسکتی ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند