تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو ’توہین آمیز‘ اور’ڈھونگ‘ قرار دے دیا
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 25 جمادی الاول 1441هـ - 21 جنوری 2020م KSA 19:08 - GMT 16:08
صدر ٹرمپ نے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو ’توہین آمیز‘ اور’ڈھونگ‘ قرار دے دیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم کے موقع پر تقریر کررہے ہیں۔
ڈیووس ۔ ایجنسیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو ’توہین آمیز‘ اور’ڈھونگ‘ قرار دے دیا ہے۔

وہ منگل کے روز سوئٹزر لینڈ کے شہر ڈیووس میں منعقدہ عالمی اقتصادی فورم میں شرکت کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کررہے تھے جبکہ ادھر واشنگٹن میں امریکی سینیٹ میں ان کے خلاف مواخذے کی تحریک پر بحث کی جارہی ہے۔اس کی منظوری کی صورت میں انھیں منصب صدارت سے ہاتھ دھونا پڑسکتے ہیں۔

صحافیوں نے جب ان سے پوچھا کہ وہ اس صورت حال میں ڈیووس میں کیوں آئے ہیں اور واشنگٹن ہی میں کیوں نہیں رکے رہے؟ تو انھوں نے کہا:’’ہم عالمی لیڈروں سے ملاقاتیں کررہے ہیں۔یہ دنیا کے اہم ترین لوگ ہیں اور ہم واپس وطن میں شاندار کاروبار لے جا رہے ہیں۔‘‘

انھوں نے کہا:’’ دوسرے محض تماش بین ہیں۔یہ توصرف ایک چڑیل کی تلاش (مواخذے) کی کارروائی ہے جو گذشتہ کئی سال سے جاری ہے اور یہ توہین آمیز ہے۔‘‘

واضح رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کی تاریخ میں تیسرے صدر ہیں جن کا کانگریس میں مواخذہ کیا جارہا ہے۔امریکی صدر پر یوکرین پراپنے ڈیموکریٹک سیاسی حریف جوزف بائیڈن کے خلاف تحقیقات کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کا الزام ہے۔انھوں نے یوکرین پر زوردیا تھا کہ وہ ان کے حریف اور امریکا کے سابق نائب صدر جوزف بائیڈن کے خلاف تحقیقات کرے۔

جو بائیڈن 2020ء میں امریکا میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کی جانب سے نامزدگی کی دوڑ میں سب سے آگے ہیں اور وہ ممکنہ طور پر صدر ٹرمپ کے مدمقابل ہوں گے۔

ایوان نمایندگان کی اسپیکر نینسی پیلوسی کا کہنا ہے کہ ’’حقائق ناقابل تردید ہیں۔صدر نے اپنے سیاسی فائدے کے لیے قومی سلامتی کی قیمت پر اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا۔انھوں نے اوول آفس میں ایک اہم اجلاس کو موخر کرنے اور امداد روکنے کے بدلے میں اپنے ایک سیاسی حریف کے خلاف تحقیقات کے اعلان کے لیے دباؤ کا حربہ استعمال کیا تھا۔‘‘

امریکی صدر نے یوکرین پر زوردیا تھا کہ وہ اس ازکارِ رفتہ نظریے کی بھی تحقیقات کرے کہ 2016ء میں امریکا میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں روس نے نہیں، بلکہ یوکرین نے مداخلت کی تھی۔

ڈیموکریٹس نے صدر ٹرمپ پر یہ بھی الزام عاید کیا تھا کہ انھوں نے یوکرینی صدر ولادی میر زیلنسکی پر دباؤ ڈالنے کے لیے ان کے ملک کو امریکا کی جانب سے ملنے والی 39 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی امداد روک لی تھی اور ان سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ جو بائیڈن کے خلاف تحقیقات کروائیں۔صدر ٹرمپ اپنے خلاف مواخذے کی کارروائی کو پہلے بھی ایک ڈھونگ قراردے چکے ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند