تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ٹرمپ منگل سے قبل مشرق وسطی سے متعلق اپنے امن منصوبے کا اعلان کریں گے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 28 جمادی الاول 1441هـ - 24 جنوری 2020م KSA 09:08 - GMT 06:08
ٹرمپ منگل سے قبل مشرق وسطی سے متعلق اپنے امن منصوبے کا اعلان کریں گے
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ منگل کے روز اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے واشنگٹن کے دورے سے قبل مشرق وسطی سے متعلق اپنے امن منصوبے کے اعلان کا ارادہ رکھتے ہیں۔

جمعرات کے روز فلوریڈا میں اترنے سے قبل صدارتی طیارے میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ایک "شان دار منصوبہ" ہے۔

معلوم رہے کہ وائٹ ہاؤس میں ٹرمپ اور نیتن یاہو کی آئندہ ملاقات میں فلسطینی جانب کو دعوت نہیں دی گئی تاہم فلسطینیوں نے باور کرایا ہے کہ وہ مذکورہ امن منصوبے کو مسترد کرتے ہیں۔

امریکی انتظامیہ اور فلسطینیوں کے درمیان رابطے سے متعلق سوال پر ٹرمپ نے مبہم انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ "ہم نے اُن کے ساتھ مختصرا بات چیت کی ہے"۔ امریکی صدر نے مزید کہا کہ "مجھے یقین ہے کہ ابتدا میں وہ منفی صورت میں جواب دے سکتے ہیں مگر درحقیقت یہ (منصوبہ) اُن کے لیے نہایت مثبت ہے"۔

اس سے قبل ٹرمپ نے جمعرات کو اپنے سرکاری اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں مشرق وسطی میں امن منصوبے کے جلد اعلان سے متعلق خبروں کو غلط قرار دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ "امریکا آئندہ ہفتے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور بلیو اینڈ وائٹ سیاسی اتحاد کے سربراہ بینی گینٹس کے استقبال کا خواہاں ہے"۔ ٹرمپ کا مزید کہنا تھا کہ "ہمارا امن منصوبہ جس کو پوشیدہ رکھا گیا ہے ،،، اس کی تفصیلات اور اعلان کے وقت کے متعلق رپورٹیں محض قیاس آرائیاں ہیں"۔

دوسری جانب میڈیا میں اس امن منصوبے کے جلد اعلان کی خبریں آنے کے فوری بعد فلسطینی اتھارٹی نے جمعرات کے روز ایک بار پھر اس موقف کو دہرایا ہے کہ وہ امریکی منصوبے کو مسترد کرتی ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس کے ترجمان نبیل ابو ردینہ نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطینی اتھارٹی ایک بار پھر باور کراتی ہے کہ وہ ان امریکی فیصلوں کو قطعی طور پر مسترد کرتی ہے جن کے تحت بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت ہونے کا اعلان کیا گیا اور اسی طرح بین الاقوامی قوانین کی مخالفت کرنے والے دیگر تمام امریکی فیصلوں کو بھی مسترد کرتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے "ڈیل آف دی سنچری" کو زیر بحث لانے کے لیے نیتن یاہو اور گینٹس دونوں کو آئندہ ہفتے واشنگٹن کے دورے کی دعوت دی ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ 2017 میں امریکی صدر کے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے اس منصوبے پر کام کر رہی ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند