تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران اب بھی امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہے: جواد ظریف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م
آخری اشاعت: ہفتہ 29 جمادی الاول 1441هـ - 25 جنوری 2020م KSA 17:22 - GMT 14:22
ایران اب بھی امریکا سے مذاکرات کے لیے تیار ہے: جواد ظریف
ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف میڈیا سے گفتگو کررہے ہیں۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

ایران سپاہِ پاسداران انقلاب کی القدس فورس کے کمانڈر میجرجنرل قاسم سلیمانی کی بغداد میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے باوجود امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے امریکا کو یہ پیش کش جرمن جریدے دیر اسپیگل سے انٹرویو میں کی ہے۔ ان کا یہ انٹرویو اتوار کو شائع کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہا:’’ میں نے کبھی اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ لوگ اپنے نقطہ نظر کو تبدیل کرلیں گے اور حقیقتوں کوسمجھیں گے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ایران اب بھی بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن انھوں نے اس کی ایک شرط عاید کی ہے اوراپنے ملک کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ کسی قسم کے مذاکرات سے پہلے امریکا کو ایران پر عاید کردہ تمام تعزیری پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

ڈیر اسپیگل کے مطابق جواد ظریف نے کہا:’’ ہمارے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے کہ وائٹ ہاؤس میں کون بیٹھا ہے لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ وہ کیا کردار اختیار کرتے ہیں۔ٹرمپ انتظامیہ بھی اپنے ماضی کو درست کرسکتی ہے، وہ ایران پر عاید کردہ پابندیاں ختم کردے اور مذاکرات کی میز پر لوٹ آئے۔ہم بدستور مذاکرات کی میز ہی پر بیٹھے ہیں۔یہ امریکی ہی ہیں جو اس (میز) کو چھوڑ کر گئے تھے۔‘‘

ایرانی وزیر خارجہ نے ایک طرف تو امریکا کو مذاکرات کی پیش کش کی ہے لیکن ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی عندیہ دیا ہے کہ اگر امریکا محاذ آرائی کو جاری رکھنا چاہتا ہے تو ایران بھی اس کے لیے تیار ہے لیکن انھوں نے اس کی کوئی وضاحت نہیں کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’’امریکا نے ایرانی عوام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ایک دن ایسا آئے گا کہ امریکیوں کو اس نقصان کا ازالہ کرنا پڑے گا مگر ہم میں بہت صبر وتحمل ہے۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند