تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان فورسز کے زمینی اور فضائی حملوں میں 51 طالبان جنگجو ہلاک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: اتوار 30 جمادی الاول 1441هـ - 26 جنوری 2020م KSA 21:48 - GMT 18:48
افغان فورسز کے زمینی اور فضائی حملوں میں 51 طالبان جنگجو ہلاک
افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار کابل میں بم دھماکے کی جگہ پر پہرا دے رہے ہیں۔ فائل تصویر
کابل ۔ ایجنسیاں

افغانستان میں سرکاری فوج نے گذشتہ 24 گھنٹے کے دوران میں مختلف علاقوں میں طالبان مزاحمت کاروں کے خلاف زمینی اور فضائی حملے جاری رکھے ہیں۔ان کے نتیجے میں اکاون طالبان جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغانستان کی وزارت دفاع نے اتوار کو ایک بیان میں بتایا ہے کہ سرکاری فورسز نے ملک کے نو صوبوں میں تیرہ زمینی کارروائیاں کی ہیں اور مختلف مقامات پر بارہ فضائی حملے کیے ہیں۔ان میں اکاون’’ دہشت گرد‘‘ ہلاک اور تیرہ زخمی ہوگئے ہیں جبکہ چھے کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

مقامی حکام نے بتایا ہے کہ شمالی صوبہ بلخ میں ایک مکان پر فضائی حملے میں تین عورتیں اور چار بچے مارے گئے ہیں۔ان مقتولین کے لواحقین اور علاقے کے مکینوں نے صوبائی گورنر کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔حکومت نے شہریوں کی ہلاکتوں کی اطلاع کے بعد حقائق کی جانچ کے لیے علاقے میں ایک مشن بھیجنے کا وعدہ کیا ہے۔

دریں اثناء طالبان نے بھی کہا ہے کہ انھوں نے اختتام ہفتہ پر سکیورٹی فورسز پر مزید دو حملے کیے ہیں۔وہ گذشتہ ہفتے کے دوران میں وقفے وقفے سے افغان سکیورٹی فورسز پر حملے کرتے رہے تھے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ صوبہ کندوز میں افغان سکیورٹی فورسز کے چیک پوائنٹس پر ہفتے کی شب حملہ کیا گیا تھا۔اس حملے میں سکیورٹی فورسز کے دس اہلکار ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔طالبان نے وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود بھی اپنے قبضے میں لے لیا ہے۔

طالبان نے ایک اور بیان میں کہا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے صوبہ بلخ میں افغان سکیورٹی فورسز کی ایک گشتی پارٹی پر حملہ کیا ہے اور آٹھ سرکاری اہلکاروں کو ہلاک کردیا ہے۔

جنگ زدہ افغانستان میں تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت میں رونما ہوئے ہیں جب ادھر قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان براہ راست امن مذاکرات جاری ہیں اور فریقین نے بات چیت میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے کی غرض سے مزید صلاح مشورے کے لیے دو دن کا وقفہ کیا ہے۔

امریکا اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات گذشتہ سال کے اوائل میں شروع ہوئے تھے لیکن طالبان کے ستمبر اور پھر دسمبر میں امریکی فوجیوں پر حملوں کے بعد یہ مذاکرات عارضی طور پر منقطع ہوگئے تھے۔

گذشتہ ہفتے امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد اور طالبان کے اعلیٰ مذاکرات کار ملّا عبدالغنی برادر کے درمیان مذاکرات کا نیا دور شروع ہوا تھا اور اس دوران میں انھوں نے متعدد مرتبہ بالمشافہ ملاقاتیں کی ہیں۔

مختلف ذرائع نے بتایا ہے کہ طالبان نے امریکی فورسز پر حملے روکنے اور افغان حکومت کے مفادات پر حملوں میں کمی لانے سے اتفاق کیا ہے۔تاہم گذشتہ ہفتے افغانستان کے مختلف علاقوں سے طالبان کے حکومت کی تنصیبات اور پولیس اسٹیشنوں پر حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند