تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ٹرمپ کا ایردوآن سے ٹیلی فون پر رابطہ، لیبیا میں غیر ملکی مداخلت روکنے پر زور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م
آخری اشاعت: منگل 2 جمادی الثانی 1441هـ - 28 جنوری 2020م KSA 10:36 - GMT 07:36
ٹرمپ کا ایردوآن سے ٹیلی فون پر رابطہ، لیبیا میں غیر ملکی مداخلت روکنے پر زور
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ روز پیر کو اپنے تُرک ہم منصب رجب طیب ایردوآن کے ساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کی۔ اس موقع پر دونوں شخصیات نے شام اور لیبیا کی صورت حال کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ لیبیا میں غیر ملکی مداخلت روکے جانے کی ضرورت پر بھی تبادلہ خیال ہوا۔

اس سلسلے میں وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے ٹویٹر اکاؤنٹ پر بتایا کہ دونوں سربراہان کے درمیان لیبیا میں غیر ملکی مداخلت کے خاتمے اور فائر بندی کے جاری رہنے کی ضرورت پر بات چیت ہوئی۔ اس دوران ٹرمپ اور ایردوآن نے اس بات پر اتفاق کیا کہ شام کے صوبے ادلب میں جاری تشدد کا سلسلہ روکا جانا چاہیے۔

ادھر لیبیا کے ساتھ تقریبا ایک ہزار کلومیٹر طویل سرحد رکھنے والے ملک الجزائر نے حالیہ عرصے میں اس تنازع کے سیاسی حل کی کوششوں میں مشاورت کو تیز کر دیا ہے جو خطے کے استحکام کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے تازہ ترین کاوش متحدہ عرب امارات کے وزیر خارجہ شیخ عبداللہ بن زائد آل نہیان کا الجزائر کا دورہ ہے۔ دورے میں بات چیت کا بنیادی محور لیبیا کا بحران رہا۔

اسی سلسلے میں الجزائر نے جمعرات کے روز لیبیا کے پڑوسی ممالک کے ایک اجلاس کی میزبانی کی۔ اجلاس میں شریک ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا کہ 12 جنوری سے نافذ العمل فائر بندی کی سپورٹ کی جائے گی اور لیبیا میں تنازع کے فریقین کو ہتھیاروں کی فراہمی پر پابندی کا احترام کیا جائے گا۔

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے اتوار کے روز الجزائر کا دورہ کیا۔ دورے کا اصل مقصد لیبیا کے بحران کو زیر بحث لانا تھا۔ ایردوآن نے انقرہ کے اپنی فوج کو لیبیا بھیجنے پر موافقت کے باوجود اعلان کیا کہ "لیبیا کے بحران کا کوئی عسکری حل نہیں ہے"۔

اس سے قبل العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے نے پیر کے روز بتایا کہ برطانیہ اس وقت سلامتی کونسل میں لیبیا کے حوالے سے ایک قرار داد پر کام کر رہا ہے۔

برطانیہ نے سلامتی کونسل کے رکن ممالک کے ساتھ ابتدائی رابطے شروع کر دیے ہیں۔ اس کا مقصد اُن تجاویز کے بارے میں رائے کا اظہار ہے جو لیبیا کے حوالے سے ممکنہ قرار داد میں شامل کی جا سکتی ہیں۔

برطانیہ نے ایک غیر طویل قرار داد پر انحصار کی تجویز پیش کی ہے جو برلن کانفرنس کے فیصلوں کے اقداماتی اور عملی پہلوؤں پر مرکوز ہو اور جس کو سلامتی کونسل کی نگرانی کی ضرورت ہے۔

ادھر جرمنی کے وزیر خارجہ ہائیکو ماس نے پیر کے روز مطالبہ کیا ہے کہ لیبیا کو ہتھیاروں کی برآمدات پر پابندی کی خلاف ورزی کرنے والے ممالک پر پابندیاں عائد کی جائیں۔ ہائیکو کے مطابق لیبیا کے حوالے سے فیصلوں پر عمل درامد کے لیے بہت کام کرنے کی ضرورت ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند