تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا یہ شاید آخری موقع ہے:صدر ٹرمپ کی’صدی کی ڈیل‘
امریکی صدر کا80 صفحات کو محیط مشرقِ اوسط امن منصوبہ کا اعلان، طرفین کو برابری کی فتح کی نوید
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 27 جمادی الثانی 1441هـ - 22 فروری 2020م
آخری اشاعت: بدھ 3 جمادی الثانی 1441هـ - 29 جنوری 2020م KSA 05:18 - GMT 02:18
آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا یہ شاید آخری موقع ہے:صدر ٹرمپ کی’صدی کی ڈیل‘
امریکی صدر کا80 صفحات کو محیط مشرقِ اوسط امن منصوبہ کا اعلان، طرفین کو برابری کی فتح کی نوید
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، اسرائیلی وزیر اعظم کے ہمراہ ’صدی کی ڈیل‘ کا اعلان کر رہے ہیں۔
واشنگٹن ۔ ایجنسیاں

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عشروں پر محیط اسرائیل ، فلسطینی تنازع کے حل کے لیے اپنی انتظامیہ کے طویل عرصے سے التوا کا شکار مشرقِ اوسط امن منصوبہ کا اعلان کردیا ہے۔انھوں نے خبردار کیا ہے کہ فلسطینی ریاست کے قیام کا شاید یہ آخری موقع ہوسکتا ہے۔

انھوں نے اپنے اس منصوبہ کو ’’صدی کی ڈیل‘‘ قرار دیا ہے۔منگل کے روز وائٹ ہاؤس میں منعقدہ نیوزکانفرنس میں اس کے اعلان کے وقت اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے تھے۔

امریکی صدر نے کہا کہ ’’اسرائیل آج امن کی جانب بڑا اقدام کر رہا ہے۔‘‘ان کا اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان قیام امن کے لیے یہ منصوبہ 80 صفحات کو محیط ہے۔ انھوں نے اس کو فلسطینیوں کے لیے ایک تاریخی موقع قراردیا ہے۔ان کے بہ قول فلسطینی اس کے تحت اپنی ایک آزاد ریاست قائم کرسکتے ہیں۔

انھوں نے ساتھ یہ بھی خبردار کیا ہے کہ ’’یہ فلسطینیوں کے لیے آخری موقع ہوسکتا ہے۔وہ غُربت اور تشدد کا شکار ہیں۔ان سے وہ لوگ فائدہ اٹھا رہے ہیں جو انھیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کو فروغ دینے کے لیے آلہ کار کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں لیکن وہ ( فلسطینی) بھی ایک بہتر زندگی کے حق دار ہیں۔‘‘

صدرٹرمپ نے اپنے اس منصوبہ کے نمایاں نکات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ’’اس میں طرفین کے لیے برابر برابر جیت کا موقع ہے۔اس میں تنازع کا حقیقت پسندانہ دو ریاستی حل پیش کیا گیا ہے اور فلسطینی ریاست کے قیام سے اسرائیل کی سلامتی کو کوئی خطرہ نہیں رہے گا۔

انھوں نے بتایا:’’اس منصوبہ میں یہ تجویز کیا گیا ہے کہ اسرائیل مستقبل میں قائم ہونے والی فلسطینی ریاست کے علاقے میں چارسال کے لیے ترقیاتی کام منجمد کردے گا۔یروشلیم (مقبوضہ بیت المقدس) اسرائیل کا غیرمنقسم دارالحکومت رہے گا۔‘‘

لیکن ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ منصوبے کے تحت مقبوضہ مشرقی بیت المقدس مجوزہ فلسطینی ریاست کا دارالحکومت ہوگا۔انھوں نے یہ بھی اشارہ دیا ہے کہ غرب اردن کو دو حصوں میں تقسیم نہیں کیا جائے گا۔

انھوں نے مستقبل میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے کام کا وعدہ کیا اور کہا کہ ہم اس کے قیام کے لیے شرائط کو پورا ہوتا دیکھیں گے۔ان میں ایک یہ ہے کہ تشدد کوپُرعزم انداز میں مسترد کیا جائے گا۔انھوں نے فلسطینیوں پر زوردیا کہ وہ حماس تحریک سے مُنھ موڑ لیں۔

امریکی صدر نے اس منصوبہ کو فلسطینیوں کی آزاد ریاست کے قیام کے لیے تاریخی موقع قرار دیتے ہوئے بتایا کہ انھوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کو اس کی حمایت کے لیے خط لکھا ہے۔

انھوں نے کہا:’’ میں نے محمود عباس کو وضاحت کی ہے کہ ان کی نئی ریاست کے لیے مختص کردہ علاقہ بدستور کھلا رہے گا اور چار سال کی مدت کے لیے غیر ترقی یافتہ رہے گا۔‘‘

صدر ٹرمپ کے ساتھ کھڑے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن نے اس منصوبہ کا پُرجوش انداز میں خیر مقدم کیا ہے اور اس کو صہیونی ریاست کے لیے ایک تاریخی دن قراردیا ہے۔

فلسطینی صدر محمود عباس امریکی صدر کے اس منصوبے کو منظرعام پر آنے سے قبل ہی مسترد کرچکے ہیں۔انھوں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ ایسے کسی امن منصوبہ کو تسلیم نہیں کرسکتے جس میں تنازع کے دو ریاستی حل کی ضمانت نہ دی گئی ہو۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے صہیونی وزیراعظم کو بہ طور خاص اس منصوبے کے اعلان کےوقت وائٹ ہاؤس میں آنے کی دعوت دی تھی لیکن انھوں نے کسی عرب یا فلسطینی لیڈر کو اس اہم موقع پر مدعو نہیں کیا ہے۔البتہ اس موقع پر تین عرب ممالک عُمان ، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے سفراء اس امن منصوبہ کی رونمائی کے وقت وائٹ ہاؤس میں موجود تھے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند