تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سائنس کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی سعودی خواتین
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 18 جمادی الثانی 1441هـ - 13 فروری 2020م KSA 12:25 - GMT 09:25
سائنس کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دینے والی سعودی خواتین
رياض ـ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب میں علمی اور ثقافتی میدان میں خواتین کا کردار وقت کے ساتھ نمایاں اور اہم ہوتا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے سائنس کے شعبے میں سعودی خواتین کی شرکت سماجی ترقی اور پیش رفت کا ذریعہ ہے۔

دنیا بھر میں ہر سال 11 فروری کو "سائنس کے میدان میں خواتین کا عالمی دن" منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر سائنس کے مختلف شعبوں میں خواتین کے کردار اور مفید کاوشوں کو سراہا جاتا ہے۔

سعودی خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کے مطابق مملکت میں خواتین کی تعلیم پر خصوصی توجہ کے نتیجے میں سعودی خواتین سائنس کے میدان میں بھی حیران کر دینے والی کامیابیاں سمیت رہی ہیں۔ انہوں نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مشکلات کا سامنا کرنے، کامیابیوں کو یقینی بنانے اور اپنے شعبے میں چوٹی تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اس حوالے سے مملکت کی دانش مند قیادت کی جانب سے خواتین کو حاصل سپورٹ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔

حالیہ عرصے میں بہت سے سعودی خواتین سائنس دانوں اور خواتین محققات نے مقامی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا لوہا منوایا ہے۔

خاتون انجینئر مشاعل الشمیمری پہلی سعودی خاتون ہیں جو امریکی خلائی ایجنسی ناسا میں راکٹوں کی ڈیزائننگ کے شعبے میں کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اپنی ایک چھوٹی نجی کمپنی بھی قائم کی ہے جو مصنوعی سیارے فراہم کرتی ہے۔

ڈاکٹر حیات سندی پہلی سعودی خاتون سائنس دان اور محققہ ہیں جو اقوام متحدہ کی تظیم یونیسکو میں خیر سگالی سفیر کے منصب پر کام کر رہی ہیں۔ سائنس، طب اور ٹیکنالوجی کے میدان میں انہوں نے کئی بیش بہا کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ڈاکٹر حیات نے ایک آلے کی ایجاد پر کام کیا۔ اس آلے یعنی Magnetic Acoustic Resonance Sensor کے ذریعے خلا نوردوں کے جسموں میں شوگر اور فشار خون کی سطح معلوم کی جا سکتی ہے۔

ڈاکٹر خولہ الکریع کنگ فیصل اسپیشلسٹ ہسپتال میں سرطان سے متعلق تحقیق سے وابستہ ایک سینئر سائنس دان ہیں۔ وہ اسی ہسپتال کے کنگ فہد ٹیومر سینٹر میں تحقیقی مرکز کی سربراہ بھی ہیں۔ ڈاکٹر خولہ نے قولون اور امعاء مستقیم کے سرطان میں MED12 نامی جین کے کردار کا انکشاف کیا۔ یہ پیش رفت کیموتھراپی کے ذریعے علاج سے قبل مریضوں کے معائنے میں ڈاکٹروں کے لیے مددگار ثابت ہو گی۔ مزید یہ کہ جینیاتی نقصان کی صورت میں دیگر متبادل فراہم کیے جا سکیں گے۔

ڈاکٹر سلوی الہزاع کنگ فیصل ہسپتال میں آنکھوں کے شعبے کی سربراہ ہیں۔ وہ امریکا میں امراض چشم کی سائنس میں پروفیسر کا خطاب حاصل کرنے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔ وہ پہلی خاتون ہیں جن کو International Council of Ophthalmology نے "پانچ براعظموں کی ڈاکٹر" کا خطاب دیا۔ انہیں بااثر ترین عرب خواتین کی فہرست میں بھی شامل کیا گیا۔

ڈاکٹر سمیرہ اسلام کا شمار نمایاں ترین سعودی خواتین سائنس دانوں میں ہوتا ہے۔ انہوں نے فارمیسی کے شعبے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔ وہ فارماکولوجی میں پروفیسر کا درجہ پانے والی پہلی سعودی خاتون ہیں۔ ڈاکٹر سمیرہ کنگ فہد سینٹر فار میڈیکل ریسرچ میں میڈیسن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول یونٹ کی سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر سمر الحمود قولون اور امعاء مستقیم کی سرجری سے متعلق مشاورتی معالج ہیں۔ انہیں عالمی ادارہ صحت WHO میں بین الاقوامی ایجنسی برائے تحقیقِ سرطان کی جانب سے اس شعبے میں سائنسی تحقیقات کا جائزہ لینے والی ماہرین کی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔

ڈاکٹر نجلاء الردادی نے 2017 میں کنگ عبدالعزیز سِٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں سرطانی رسولیوں کے علاج میں پیٹینٹ حاصل کیا۔ یہ پیٹینٹ ایسے مرکبات کی تیاری سے متعلق ہے جو سرطانی خلیوں کے علاج میں کام آتے ہیں۔ قدرتی مواد اور ماحول دوست طریقے سے تیار کیے جانے کے سبب ان مرکبات کے سائیڈ ایفیکٹس نہیں ہیں۔

ڈاکٹر لیلی بنت سالم کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر اور دانتوں سے متعلق مشاورتی معالج ہیں۔ انہوں نے دانتوں میں اعصابی ورم کے علاج میں اہم پیش رفت کو یقینی بنایا۔ ڈاکٹر لیلی نے نینو ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے متاثرہ جگہ پر دوا پہنچانے میں کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے ایک ایسا نیا مواد استعمال کیا جو اس سے قبل کسی نے علاج کے واسطے استعمال نہیں کیا تھا۔

ڈاکٹر سامیہ میمنی پہلی سعودی سرجن ہیں جنہوں نے دماغی اور اعصابی علاج کے شعبے میں اسپیشلائزیشن مکمل کی۔ انہوں نے اس شعبے میں بیش بہا کامیابیاں حاصل کیں۔ ڈاکٹر سامیہ نے "اعصابی سکون" سے متعلق ایک ایسا آلہ ایجاد کیا جس کے ذریعے فالج کا شکار ہونے والے دماغی اعصاب کو کنٹرول کر کے اسے حرکت میں لایا جا سکتا ہے اور اس کا علاج کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح انہوں نے ایک اور آلہ mars بھی ایجاد کیا۔ یہ آلہ سرطان کا قبل از وقت انکشاف کر سکتا ہے۔

پروفیسر غادہ المطیری نے کیمیا کے شعبے میں سائنسی دریافت کا انعام حاصل کیا۔ غادہ کو یہ انعام امریکا میں سائنسی تحقیق کی سپورٹ کے لیے سب سے بڑی تنظیم ".H.I.N" نے نینو ٹیکنالوجی پر منحصر اپنے تحقیقی منصوبے کے سلسلے میں دیا۔

سہاد کندی پہلی سعودی خاتون ہیں جنہوں نے کیمیا کے شعبے میں لندن سے بین الاقوامی پرائز حاصل کیا۔ وہ کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں ذیابیطس کے علاج میں مطالعاتی تحقیق کرنے والے مجموعے کی سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔

ڈاکٹر عبیر العليّان تیل کے شعبے سے وابستہ ماہر اور سائنس دان ہیں۔ وہ پہلی عرب اور سعودی خاتون ہیں جنہوں نے مشرق وسطی میں Oil and Gas Woman of the Year کا ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے ایسا کیمایئی مواد تیار کیا جس کے ذریعے تیل کے کنوؤں کی کھدائی کے دوران Drilling Fluid کے خسارے کے مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

ڈاکٹر ہند الجہنی تبوک یونیورسٹی میں طبیعیاتی کیمیا کے شعبے میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ وہ پہلی سعودی خاتون استاد ہیں جن کی عالمی سطح کی تحقیق طبیعیاتی کیمیا کے شعبے میں ایک معروف ترین تحقیقی مجلے میں شائع ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ریم الطویرقی جدہ میں کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی میں طبیعیات کی پروفیسر ہیں۔ طبیعیات کے شعبے میں سائنسی کاوشوں کے سبب ان کے نام کو متعدد بین الاقوامی فورموں پر گراں قدر پذیرائی حاصل ہوئی ہے۔

ڈاکٹر ابتسام سعید باضریس کنگ عبدالعزیز سِٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں واقع نیشنل سینٹر آف نینو ٹیکنالوجی میں تحقیقی سائنس دان ہیں۔ وہ پہلی سعودی خاتون ہیں جنہوں نے جوہری تحقیق سے متعلق یورپی تنظیم کی رکنیت حاصل کی۔ اس کے علاوہ وہ پہلی سعودی پی ایچ ڈی خاتون ہیں جو کنگ عبدالعزیز سِٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں ریاضیات اور طبیعیات کے قومی مرکز سے وابستہ ہو کر کام کر رہی ہیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند