تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
طرابلس کی بندرگاہ پرترکی کے اسلحہ سے لدے بحری جہاز پر لیبی قومی فوج کا حملہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: منگل 23 جمادی الثانی 1441هـ - 18 فروری 2020م KSA 18:46 - GMT 15:46
طرابلس کی بندرگاہ پرترکی کے اسلحہ سے لدے بحری جہاز پر لیبی قومی فوج کا حملہ
طرابلس کی بندرگاہ کے علاقے سے حملے کے بعد دھواں اٹھ رہا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کی بندرگاہ پر ترکی کے اسلحہ سے لدے ایک بحری جہاز پر لیبی قومی فوج ( ایل این اے) نے حملہ کیا ہے۔اس کے بعد بندرگاہ سے دھواں اٹھتے دیکھا گیا ہے۔

ایل این اے کے میڈیا سنٹر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ طرابلس کی بندرگاہ پر ترکی کے اسلحہ اور گولہ بارود سے لدے ایک بحری جہاز کو آج صبح تباہ کردیا گیا ہے۔

لیبیا کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی غسان سلامہ نے بندرگاہ پر حملے کی تصدیق کی ہے لیکن انھوں نے اس کی مزید کوئی تفصیل نہیں بتائی ہے۔البتہ بندرگاہ کے ایک ذریعے کا کہنا ہے کہ ایک گودام کو حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔

ترکی نے لیبیا کی اقوام متحدہ کی تسلیم شدہ قومی اتحاد کی حکومت (جی این اے) کی حمایت میں فوجی اوراسلحہ بھیجا ہے۔طرابلس پر لیبیا کے مشرقی شہر بنغازی سے تعلق رکھنے والے کمانڈر خلیفہ حفتر کے زیر قیادت قومی فوج نے گذشتہ سال اپریل سے چڑھائی کررکھی ہے اور قومی اتحاد کی حکومت کی فورسز اس کے خلاف نبرد آزما ہیں۔

ترکی پر ان فورسز کی حمایت میں شامی جنگجوؤں کو لیبیا میں بھیجنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔ ان میں داعش کے جیلوں سے رہا کیے گئے بعض جنگجو بھی شامل ہیں۔

واضح رہے کہ یورپی یونین لیبیا کو اسلحہ مہیا کرنے پر عاید پابندی کے نفاذ کے لیے کوشاں ہے۔اس کے باوجود ترکی نے لیبی قومی حکومت کی مدد کے لیے اسلحہ اور گولہ وبارود بھیجا ہے۔

لیبیا میں اقوام متحدہ کی خصوصی نائب ایلچی اسٹفینی ولیمز نے اتوار کو ایک بیان میں کہا تھا کہ ’’لیبیا میں اسلحہ کی پابندی ایک مذاق بن کررہ گئی ہے، ہمیں حقیقی معنوں میں کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند