تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ڈیموکریٹس کی ایرانی وزیر خارجہ سے خفیہ ملاقات ، پومپیو پھٹ پڑے
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: بدھ 24 جمادی الثانی 1441هـ - 19 فروری 2020م KSA 09:19 - GMT 06:19
ڈیموکریٹس کی ایرانی وزیر خارجہ سے خفیہ ملاقات ، پومپیو پھٹ پڑے
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو
واشنگٹن - بندر الدوشی

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ڈیموکریٹس کے ایک گروپ پر کڑی نکتہ چینی کی ہے کیوں کہ انہوں نے جرمنی میں ہونے والی ایک کانفرنس کے دوران ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کے ساتھ خفیہ ملاقات کی تھی۔ یہ ملاقات گذشتہ ہفتے منعقد ہونے والی میونخ سیکورٹی کانفرنس کے دوران ہوئی۔

افریقا کے دورے کے دوران منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے پومپیو کا کہنا تھا کہ انہیں خوف ہے کہ مذکورہ ملاقات ایران اور جواد ظریف کے ساتھ خارجہ حکمت عملی کو سبوتاژ کر دے گی۔

پومپیو نے مزید کہا کہ "ظریف ایک ایسی ریاست کے وزیر خارجہ ہیں جس نے 27 دسمبر کو ایک امریکی کا قتل کیا۔ وہ ایک ایسے ملک کے وزیر خارجہ ہیں جو دنیا بھر میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے"۔

واضح رہے کہ میڈیا کے دباؤ کے تحت ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی نے اعتراف کیا کہ مذکورہ ملاقات گذشتہ ہفتے کی شب جرمنی میں عالمی قیادت کی خارجہ پالیسی کے حوالے سے منعقد کانفرنس کے دوران ہوئی۔ منگل کے روز اپنی ٹویٹ میں مرفی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس بات پر تنقید کا نشانہ بنایا کہ انہوں نے امریکا اور ایران کے بیچ مذاکرات کے واسطے کوئی ڈپلومیٹک چینل قائم نہیں خیا۔

ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی

مرفی نے لکھا کہ "میں ایران کے حوالے سے کوئی مفروضہ نہیں رکھتا .. وہ ہمارا دشمن اور ہزاروں امریکیوں کے قتل کا ذمے دار ہے .. پورے مشرق وسطی میں دہشت گرد تنظیموں کے لیے سپورٹ قابل قبول نہیں ہے .. تاہم میرے خیال میں اپنے دشمنوں کے ساتھ بات چیت نہ کرنا خطرے کی بات ہے"۔

مرفی کے مطابق کانگرس کے ارکان وزراء خارجہ کی ذمے داریاں اٹھا رہے ہیں۔

کرس مرفی نے دعوی کیا کہ انہوں نے جواد ظریف پر دباؤ ڈالا کہ وہ عراق میں ایرانی ایجنٹوں پر قابو پائیں۔ ساتھ ہی یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ ایران میں غیر قانونی طور پر حراست میں لیے گئے امریکی شہریوں کو رہا کیا جائے۔ اسی طرح حوثیوں کی جانب سے یمن میں انسانی امداد کی کارروائیوں میں ڈالی جانے والی رکاوٹوں پر روک لگانے کے لیے مداخلت کی جائے۔

مرفی نے اپنی ٹویٹ کے اختتام پر کہا کہ کانگرس ،،، ملکی انتظامیہ کی مشترکہ شاخ ہے .. "ہم بھی خارجہ پالیسی وضع کر چکے ہیں۔ گزرے سالوں میں اوباما اور ٹرمپ کے دور میں ہم میں سے بہت سے لوگوں نے جواد ظریف سے ملاقات کی"۔

واضح رہے کہ کرس مرفی کی ایرانی وزیر خارجہ کے ساتھ خفیہ ملاقات نے امریکا میں غصے کی لہر دوڑا دی۔ امریکی انتظامیہ سے قریب متعدد شخصیات نے اس ملاقات کو "غداری" قرار دیا جس پر سینیٹر کرس مرفی اور ملاقات میں ان کے ساتھ شریک افراد کا احتساب کیا جانا چاہیے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند