تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کے ضرررساں کردار کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: پومپیو
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م KSA 17:12 - GMT 14:12
ایران کے ضرررساں کردار کے مقابلے میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں: پومپیو
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ وہ سعودی عرب اس لیے آئے ہیں تاکہ اپنے اتحادی ملک کی سلامتی کےلیے اپنی ذمہ داریوں پرعمل درآمد پر بات چیت کرسکیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب پہنچنے کے لیے بعد 'ٹویٹر' پر  پوسٹ ایک بیان میں مائیک پومپیونے کہا کہ 'خطے میں ایران کے تخریبی اور تکلیف دہ کردارکے جواب میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے۔

خیال رہےکہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو بُدھ کی شام تین روزہ دورے پر سعودی عرب پہنچے ہیں۔ وہ سعودی قیادت کے ساتھ خطے کو درپیش سیکیورٹی چیلنجز اور ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال پر بات چیت کریں گے۔

الریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی ڈے پر واشنگٹن میں متعیّن سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر آل سعود ، الریاض میں امریکی سفیر جان ابی زید اور سعودی عرب کے انڈر سیکریٹری برائے پروٹوکول امور عزام بن عبدالکریم القائن نے ان کا استقبال کیا۔

اس موقع پر شہزادی ریما بنت بندر نے کہا کہ خطے کے استحکام کے لیے سعودی عرب اور امریکا کے درمیان دوطرفہ تعاون بڑی اہمیت کا حامل ہے اور انھیں مشترکہ چیلنجز درپیش ہیں۔

مائیک پومپیو نے سعودی عرب آمد سے قبل کہا کہ امریکا ایران کے ساتھ کسی بھی وقت مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن تہران کو اس سے پہلے اپنے کردار میں بنیادی تبدیلی لانی چاہیے۔

انھوں نے سعودی عرب روانہ ہونے سے قبل افریقی ملکوں کے دورے کے موقع پر کہا کہ ’’ایران نے یورپی اور امریکی شہریوں کو غیر قانونی طور پر زیر حراست رکھا ہوا ہے اور یہ ناقابل قبول ہے۔‘‘

انھوں نے واضح کیا کہ ’’ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ برقرار رکھا جائے گا جیسا کہ اس کو سفارت کاری کے ذریعے تنہا کردیا گیا ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ نے کہا:’’ ہمیں کوئی جلدی نہیں، دباؤ کی مہم جاری ہے۔یہ صرف اقتصادی دباؤ کی مہم نہیں بلکہ (ایران کو) سفارت کاری کے ذریعے بھی تنہا کیا گیا ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا کہ ’’ الریاض میں ہم بہت سا وقت سکیورٹی سے متعلق امور پر گفتگو میں صرف کریں گے، بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران سے درپیش خطرات کے بارے میں تبادلہ خیال کیا جائے گا لیکن ہم وسیع تر موضوعات سے متعلق بھی بات چیت کریں گے۔‘‘

امریکا میں متعین سعودی عرب کی سفیر شہزادی ریما بنت بندر نے مائیک پومپیوکے استقبال کےموقع پر کہا کہ امریکا اور سعودی عرب کےدرمیان مضبوط تعاون خطے کے استحکام اور مشترکہ چیلنجز سےنمٹںے کے لیے ضروری ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند