تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب میں العلا کا علاقہ۔۔۔ پے درپے تہذیبوں کا تاریخی خزانہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 25 جمادی الثانی 1441هـ - 20 فروری 2020م KSA 14:28 - GMT 11:28
سعودی عرب میں العلا کا علاقہ۔۔۔ پے درپے تہذیبوں کا تاریخی خزانہ
رياض ـ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب میں "العلا" کا علاقہ اپنی آغوش میں ایسے مقامات رکھتا ہے جو جزیرہ نما عرب کے اہم ترین آثار قدیمہ میں سے شمار ہوتے ہیں۔ یہاں پہاڑوں اور وادیوں کے امتزاج پر مشتمل قدرت کا حسن نظر آتا ہے۔ اس کی تاریخ ہزاروں برس پرانی ہے۔ یہاں کے پہاڑوں پر کندہ قدیم نقوش تہذیبی تاریخ کے ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان میں نبطی، لحیانی، دادانی، ثمودی اور معینی تہذیبیں شامل ہیں۔ ان کے علاوہ یہاں عربی اور اسلامی نقوش قدرت اور تاریخ کے درمیان منفرد مرکب کا مظہر ہیں!

سعودی سرکاری خبر رساں ایجنسی (ایس پی اے) کی رپورٹ کے مطابق مملکت سعودی عرب نے علاقے کی تاریخی اہمیت کی حقیقت جان لی ہے۔ اس سلسلے میں العلا ضلع کی رائل اتھارٹی نے مختلف نوعیت کے منصوبوں کے ذریعے یہاں موجود تاریخی ورثے کے انکشاف پر کام کیا۔ اس حوالے سے آخری کاوش طنطورہ ونٹر فیسٹول ہے جو مسلسل دوسرے سال منعقد ہو رہا ہے۔

رائل اتھارٹی نے اس فیسٹول کے ذریعے علاقے کے حقیقی ورثے پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس کا مقصد ماضی اور حال کے بیچ ایک پُل قائم کرنا اور علاقے میں مدفون تاریخی رازوں کو منظر عام پر لانا ہے۔

رائل اتھارٹی یہاں آثار قدیمہ سے متعلق ایک جامع سروے کے اجرا پر کام کر رہی ہے۔ ساتھ ہی وہ العلا کے علاقے کے آثار قدیمہ کا نقشہ از سر نو تیار کرنے کی خواہاں ہے تا کہ یہاں کی انتہائی اہمیت کی حامل آثاریاتی تاریخ کا خزانہ واضح ہو کر سامنے آ سکے۔

العلا اُن علاقوں میں سے ہے جس کی تاریخ پتھروں کے دور سے شروع ہوتی ہے۔ یہاں کی سرزمین پر دو اہم عوامل کارفرما رہے۔ ایک تو میٹھے پانی کی فراہمی اور دوسرا زمین کی زرخیزی اور قابل زراعت ہونا۔ ان دونوں باتوں نے تاریخ کے اوائل سے ہی العلا کے علاقے کو ممتاز حیثیت بخشی۔

العلا میں سامنے آنے والے آثار قدیمہ کا تعلق تاریخ کے مختلف ادوار سے ہے۔ کنگ سعود یونیورسٹی کی جانب سے کی گئی مطالعاتی تحقیقات کے نتائج کے مطابق العلا کی تاریخ کی ابتدا دو لاکھ سال قبل مسیح سے ہوتی ہے۔

اس کے بعد 5 ہزار سے 2 ہزار سال قبل مسیح کے درمیان کا عرصہ آتا ہے۔ اس کا ثبوت یہاں مدفون اشیاء ہیں جن کا تعلق برنجی دور یعی 2400 برس قبل مسیح سے ہے۔

العلا میں انتہائی اہمیت کا حامل عرصہ جو اس علاقے کو امتیازی حیثیت دیتا ہے وہ ایک ہزار برس قبل مسیح کا ہے۔ اس دوران یہاں تہذیبی آبادی کاری اپنے عروج پر تھی۔ ان میں اہم ترین علاقوں میں "دادان" شامل ہے جس کو اب "الخريبہ" کا نام دیا گیا ہے۔ یہ دو مملکتوں کا دارالحکومت رہا۔ ان کے نام مملکتِ دادان (اٹھویں صدی قبل مسیح سے چھٹی صدی قبل مسیح تک) اور مملکت لحیان (پانچویں صدی قبل مسیح سے دوسری صدی قبل مسیح تک) ہیں۔

 

مذکورہ عرصے میں العلا کی ترقی اور اس کے نمایاں ہونے کا سبب اس کا محل وقوع ہے جو جزیرہ نما عرب کے جنوب سے آنے والے خشکی کے تجارتی راستے پر واقع ہے۔ یہ راستہ یمن سے نکل کر نجران سے گزرتا ہوا آگے دو سمتوں میں تقسیم ہو جاتا تھا۔ ان میں ایک راستہ حجاز اور العلا سے گزر کر عراق اور ملکِ شام کی جانب جاتا تھا۔ اُس زمانے میں العلا اس تجارتی راستے پر پڑاؤ کا ایک اہم مقام تھا۔ تجارتی قافلے العلا میں ٹھہرا کرتے تھے تا کہ اشیاء خرد نوش لے سکیں اور آرام کر سکیں۔

العلا کی تاریخ میں اگلا اہم عرصہ الحِجر کے مقام پر نبطیوں کا دور تھا۔ تاریخی معلومات کے مطابق اردن کے علاقے البترا سے تعلق رکھنے والے نبطیوں نے 40 برس قبل مسیح سے 106 قبل مسیح تک اپنا دوسرا دارالحکومت الحِجر کو بنایا۔ بعد ازاں نبطی ریاست کا سقوط ہوا اور وہ جزیرہ عرب میں رومانی وجود کے ضمن میں شامل ہو گئی۔ یہ سلسلہ چوتھی صدی عیسوی تک جاری رہا۔

اسلام کی آمد کے بعد العلا کا علاقہ شام اور مصر سے آنے والے حج کے قافلوں کے لیے پڑاؤ کا مرکزی مقام بن گیا۔ یہاں اسلامی تحریروں نے ترقی حاصل کی۔ اس عرصے میں قُرح کے مقام پر تہذیبی آبادی کاری کے آثار نہایت واضح ہیں۔ یہ مقام اب "المابيات" کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اسلامی دور میں یہ نہایت اہم جگہ ہوا کرتی تھی۔ یہاں تک کہ ایک مؤرخ کے مطابق مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے بعد العلا تیسرا اہم ترین مقام تھا۔

بعد ازاں دسویں صدی عیسوی میں العلا میں پرانا قصبہ پروان چڑھا۔ یہ سلسلہ مملکت سعودی عرب کے قیام سے تقریبا 80 برس پہلے تک جاری رہا۔

بہرکیف سعودی عرب کی جانب سے العلا کے علاقے کو بڑے پیمانے پر اہمیت دینا کوئی اچنبھے کی بات نہیں۔ یہ علاقہ یکے بعد دیگرے آنے والی تہذیبوں کا تاریخی خزانہ شمار ہوتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند