تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
بھارت:نئی دہلی میں صدر ٹرمپ کی آمد سے قبل پرتشدد جھڑپیں ،ایک پولیس اہلکار ہلاک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م KSA 19:45 - GMT 16:45
بھارت:نئی دہلی میں صدر ٹرمپ کی آمد سے قبل پرتشدد جھڑپیں ،ایک پولیس اہلکار ہلاک
نئی دہلی میں مشتعل مظاہرین نے سوموار کے روز متعدد عمارتوں کو نذر آتش کردیا ہے۔
نئی دہلی ۔ ایجنسیاں

بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی آمد سے قبل شہریت کے نئے متنازع قانون کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے دوران میں پُرتشدد جھڑپیں ہوئی ہیں اور ان میں ایک پولیس اہلکار ہلاک ہوگیا ہے۔

بھارت میں شہریت کے متنازع قانون کے دسمبر میں نفاذ کے بعد سے احتجاجی جاری تحریک ہے اور ملک کے مختلف شہروں میں پُرتشدد احتجاجی مظاہروں میں اب تک کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔

وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے متعارف کردہ اس نئے قانون کے بارے میں امریکا سمیت بہت سے ممالک اپنی تشویش کا اظہار کرچکے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وزیراعظم مودی اس طرح کے اقدامات کے ذریعے بھارت کی ایک سیکولر ملک کی شناخت کو ختم کررہے ہیں اور وہ ملک کو ہندو قوم پرست بنانا چاہتے ہیں جبکہ وہ ملک کی بیس کروڑ مسلم آبادی کو دیوار سے لگا رہے ہیں۔

نئی دہلی کے شمال مشرقی علاقے میں اتوار سے مظاہرین اور بھارتی سکیورٹی فورسز کے درمیان تناؤ پایا جارہا ہے۔مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپ میں ایک کانسٹیبل مارا گیا ہے۔اس کے سر میں گہرا زخم آیا تھا۔جھڑپ میں ایک اور پولیس افسر زخمی ہو گیا ہے۔

نئی دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے ایک ٹویٹ میں لوگوں سے پُرامن رہنے کی اپیل کی ہے۔وہ لکھتے ہیں:’’ مہربانی کرکے تشدد کی مذمت کریں۔کسی شخص کو بھی اس صورت حال سے فائدہ نہیں پہنچے گا۔تمام مسائل کو امن کے ذریعے حل کیا جائے گا۔‘‘

بھارت کی سرکاری خبررساں ایجنسی پریس ٹرسٹ آف انڈیا کے مطابق مظاہرین نے دو مکانوں اور دکانوں کو نذر آتش کردیا ہے۔مقامی ٹی وی چینلوں نے ان عمارتوں سے سیاہ دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دکھائے ہیں۔

سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں مشتعل ہجوم کو ’’جے شری رام‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ آج بھارت کے دو روزہ سرکاری دورے پر مغربی ریاست گجرات میں پہنچے تھے۔ وہاں انھوں نے ریاستی دارالحکومت احمد آباد میں ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا تھا۔اس کے بعد انھوں نے آگرہ کا دورہ کیا اور محبت کی لازوال یادگار تاج محل کو دیکھا ۔ وہ نئی دہلی میں منگل کے روز بھارتی قیادت سے باضابطہ بات چیت کریں گے۔

امریکا کے ایک سینیر عہدہ دار کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ ہندو اکثریتی ملک میں مذہبی آزادی کے حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کریں گے۔انھوں نے مذہبی آزادی کو اپنی انتظامیہ کے لیے اہم قراردیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند