تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ملائیشیا: مہاتیر محمد مستعفی، سیاسی بھونچال کا خدشہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 8 شعبان 1441هـ - 2 اپریل 2020م
آخری اشاعت: پیر 29 جمادی الثانی 1441هـ - 24 فروری 2020م KSA 11:00 - GMT 08:00
ملائیشیا: مہاتیر محمد مستعفی، سیاسی بھونچال کا خدشہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے ملائیشین فرمانروا کو اپنا استعفیٰ پیش کردیا جبکہ ان کی سیاسی جماعت نے حکمران اتحاد سے علاحدگی اختیار کر لی ہے۔

ملائیشیا کے وزیر اعظم آفس کے مطابق مہاتیر محمد نے مقامی وقت کے مطابق دن ایک بجے اپنا استعفیٰ شاہی محل میں جمع کر وایا تھا۔ اس موقع پر مزید معلومات فراہم نہیں کی گئی۔

مہاتیر محمد کی جماعت کی جانب سے یہ اچانک اور حیرت انگیز اقدام ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے کہ جب اطلاعات کے مطابق مہاتیر محمد کے حمایتی اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر ان کے حکمران اتحاد میں شامل انور ابراہیم کے اقتدار میں آنے کا راستہ روکنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے۔

شاہی دفتر میں استعفیٰ جمع کروانے سے کچھ دیر قبل مہاتیر محمد کی سیاسی جماعت برساتو نے اعلان کیا تھا کہ وہ حکمران جماعت سے علاحدگی اختیار کرتے ہوئے مہاتیر محمد کو ہی وزارت عظمیٰ کا حقدار سمجھتی ہے۔اس کے علاوہ انور ابراہیم کی جماعت کے وزراء سمیت 11 ممبران قانون ساز اسمبلی نے اپنی سیٹوں سے استعفے کا اعلان کیا۔

مہاتیر محمد اور انور ابراہیم ملائیشیا میں صف اول کے رہنما سمجھے جاتے ہیں اور ان دونوں کے تعلقات کئی دہائیوں سے سیاسی اتار چڑھائو کی زد میں آتے رہے ہیں مگر مئی 2018ء کو ہونے والےانتخابات سے قبل دونوں رہنمائوں نے ایک سیاسی اتحاد قائم کیا تھا تاکہ کرپشن کے الزامات سے لدی حکومتی جماعت کو ایوان اقتدار سے باہر نکال دیا جائے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند