تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ترکی نے ادلب میں اپنے فوجیوں کی موجودگی سے روسی فوج کو آگاہ نہیں کیا : روس
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م
آخری اشاعت: جمعہ 4 رجب 1441هـ - 28 فروری 2020م KSA 10:31 - GMT 07:31
ترکی نے ادلب میں اپنے فوجیوں کی موجودگی سے روسی فوج کو آگاہ نہیں کیا : روس
العربیہ ڈاٹ نیٹ ، ایجنسیاں

روس کی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ ترکی کے فوجی ،،، شامی مسلح جنگجوؤں کے بیچ موجود تھے جس کے سبب وہ جمعرات کی شام ادلب میں ہونے والی بم باری کی لپیٹ میں آ گئے۔ روسی خبر رساں ایجنسی "انٹرفیکس" کے مطابق بحیرہ اسود میں موجود روسی بیڑے کا کہنا ہے کہ اس نے کروز میزائل سے لیس دو فریگریٹس شام کے ساحل پر بھیجی ہیں۔

جمعے کے روز روسی وزارت دفاع نے اپنے بیان میں بتایا کہ ترکی نے روس کو اس بات سے آگاہ نہیں کیا تھا کہ ترکی کے فوجی شام میں ادلب کے علاقے میں موجود ہیں۔ ترکی کی جانب سے پیش کردہ معلومات کی رُو سے ترک فوجیوں کو علاقے میں نہیں ہونا چاہیے تھا۔

بیان کے مطابق روسی طیاروں نے ادلب میں اس علاقے پر فضائی حملے نہیں کیے جہاں ترک فوج کے یونٹ موجود تھے۔ بیان میں زور دے کر کہا گیا ہے کہ ترک فوجیوں کی ہلاکت کے بارے میں جاننے کے بعد روس نے شامی فوج کی جانب سے مکمل فائر بندی کے لیے ہر ممکن کوشش کی۔ روسی وزارت دفاع نے بتایا کہ ادلب میں کم جارحیت کے علاقے میں موجود شامی مسلح جنگجوؤں نے 27 فروری کو شامی سرکاری فورسز پر ایک بڑے حملے کی کوشش کی۔

اس سے قبل شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے جمعرات کے روز تصدیق کی تھی کہ شمالی شام میں البارہ اور بلیون کے درمیان واقع علاقے پر فضائی بم باری میں کم از کم 34 ترک فوجی ہلاک ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن اِدلب کی صورت حال کے حوالے سے اعلی سطح کے اہل کاروں کے ساتھ ایک ہنگامی سیکورٹی اجلاس منعقد کرنے پر مجبور ہو گئے۔ زمینی ذرائع نے واضح کیا ہے کہ جمعرات کے روز ادلب کے شہر احسم کے نزدیک بلیون کے علاقے میں ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کارروائی کے نتیجے میں درجنوں ترک فوجی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

ادھر اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوژارک نے جمعے کے روز خبردار کیا ہے کہ شمال مغربی شام میں فوری اقدامات نہ کیے گئے تو وہاں جارحیت کا خطرہ ہر آن بڑھتا چلا جائے گا۔ دوژارک نے ایک بیان میں باور کرایا کہ سکریٹری جنرل (انتونیو گوٹیرس) نے ایک بار پھر فوری فائر بندی کے حوالے سے اپنے مطالبے کو دہرایا ہے .. اور وہ ادلب صوبے میں شہریوں کی جانب بڑھتی عسکری جھڑپوں کے خطرے کے سلسلے میں خصوصی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔

دوسری جانب امریکا نے ترکی پر زور دیا ہے کہ وہ شام میں جھڑپوں سے خلاصی حاصل کرے اور روس سے فضائی میزائل دفاعی نظام کی خریداری سے دست بردار ہو جائے۔

ترکی کے ایک ذمے دار نے جمعرات کے روز اعلان کیا کہ ان کے ملک نے فیصلہ کیا ہے کہ ادلب میں شامی فوج کے حملوں میں درجنوں ترک فوجیوں کی ہلاکت کا مماثل جواب دیا جائے گا۔

مذکورہ ذمے نے باور کرایا کہ ترکی کی فوج نے ادلب میں شامی فوج کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند