تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
'چین میں 'کروناوائرس‘ کا پہلا شکار ایک کیکڑے فروش تھی'
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

ہفتہ 7 شوال 1441هـ - 30 مئی 2020م
آخری اشاعت: اتوار 4 شعبان 1441هـ - 29 مارچ 2020م KSA 16:22 - GMT 13:22
'چین میں 'کروناوائرس‘ کا پہلا شکار ایک کیکڑے فروش تھی'
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

چینی حکومت کی تیار کردہ ایک دستاویز میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر میں تباہی پھیلانے والے کرونا وائرس کا پہلا شکار ایک چینی خاتون تھی۔وہ کیکڑوں کی خریدو فروخت کرتی تھی۔ حکومت کی یہ دستاویز حال ہی میں لیک ہوئی ہے جس میں چین میں پہلی کرونا مریضہ کی شناخت ظاہر کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 57 سالہ کیکڑےفروش کی کہانی رواں ماہ کے اوائل میں امریکی اخبار 'وال اسٹریٹ جرنل' میں پہلی بار شائع ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق 10 دسمبر 2019ء کواس میں بیماری کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوئیں۔ اس وقت وہ ووہان شہرکے'ہوان' بازار میں اپنی دکان پر کیکڑے فروخت کرتی تھی۔وہاں سے یہ متعدی مرض بازار کے کئی دوسرے دکانداروں اور گاہکوں میں پھیلا اور پھر یہ ایسا بے لگام ہوا کہ آج نصف ملین سے زیادہ لوگ اس کا شکار ہیں اور 25 ہزار سےزیادہ لقمہ اجل بن چکےہیں۔

کرونا کی پہلی مریضہ کی شناخت 'وی ویکسیان کے نما سے کی گئی ہے۔ اسے کرونا کی بیماری کے علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا گیا۔ اب وہ تندرست ہوچکی ہے۔ اس کا کہنا ہےکہ اس کو اکثر سردیوں میں نزلہ زکام ہوتا تھا۔ شروع میں اس نے بخار اور نزلہ زکام کو معمول کی بیماری سمجھا اور دوائی لے کر اپنا کام جاری رکھا مگر ایک دن وہ اچانک ہوش کھو بیٹھی۔

آسٹریلیا نیوز ڈاٹ کام ڈاٹ اے یو کی جانب سے ترجمہ کردہ رپورٹ کے مطابق خاتون نے چینی رسالہ دی پیپر کو بتایا کہ شروع میں مجھے تھکن سی محسوس ہونے لگی لیکن یہ تھکاوٹ گذشتہ برسوں کی تھکاوٹ کی طرح نہیں تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مجھے ہر موسم سرما میں  ہمیشہ فلو ہوتا ہے لہذا میں نے سوچا کہ یہ فلو تھا۔

لیکن اس عجیب فلو کے ایک ہفتے بعد وہ اسپتال کے بستر پر تقریبا بے ہوش ہو گئی۔ وی کو یہ بیماری 10 دسمبرکو لگی مگر اس کا علاج دسمبر کے آخری دو ہفتوں کے دوران کیا گیا۔ اس عرصے میں یہ موذی مرض سیکڑوں لوگوں میں پھیل چکا تھا۔

وی نے امریکی اخبار کو بتایا کہ اس کے آس پاس کام کرنے والوں کے علاوہ ایک بیٹی ، اس کی بھانجی اور اس کے شوہر کرونا کا کا شکار ہو گئے۔ اس کا کہنا تھا کہ ممکن یہ وائرس اسے مارکیٹ کے ایک مشترکہ ٹوائلٹ سے لگا ہو۔

وی صحت یاب ہوچکی ہے۔ اسے جنوری میں اسپتال سے فارغ کردیا گیا تھا۔ اس وقت چینی عہدیدار نئے وائرس کے پھیلاؤ کی اطلاعات کو دبانے کی کوشش کر رہے تھے۔ بیجنگ نے آخر کار اس خطرے کو تسلیم کیا اور اس وبا پر قابو پانے کے لیے سخت اقدامات کیے۔ یہ اقدامات کامیاب ثابت ہوئے ہیں کیونکہ چینی حکام کی جانب سے ہر روز رپورٹ کیے جانے والے نئے کیسوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی ہے۔

لیکن کرونا ایک عالمی وبا کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اٹلی اور اسپین میں ہر روز سیکڑوں اموات ہو رہی ہیں۔ امریکا میں اس وائرس کا شکار افراد کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے۔

چینی محققین درست مقام اور وائرس کے ظاہر ہونے کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ چینی عہدیداروں کا خیال ہے کہ ووہان مارکیٹ میں جانوروں اور ممکنہ طور پر چمگادڑوں سے ایک شخص سے دوسرے انسان تک یہ وائرس پھیلا ہے لیکن مارکیٹ میں پرندے ، خرگوش ، ، مینڈک اور یہاں تک کہ سانپ بھی فروخت ہوتے ہیں۔ ہوسکتا ہے کہ یہ وائرس ان جانوروں کےذریعے انسانوں تک منتقل ہوا ہو۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند