تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
کرونا وائرس: مسافروں کے کھلےعام کھانسنے کی شکایت کرنے والا امریکی بس ڈرائیور چل بسا!
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 شوال 1441هـ - 1 جون 2020م
آخری اشاعت: اتوار 11 شعبان 1441هـ - 5 اپریل 2020م KSA 16:28 - GMT 13:28
کرونا وائرس: مسافروں کے کھلےعام کھانسنے کی شکایت کرنے والا امریکی بس ڈرائیور چل بسا!
العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکا میں ایک بس ڈرائیور کرونا وائرس کا شکار ہوکر چل بسا ہے۔امریکی ریاست مشی گن کے سب سے بڑے شہر ڈیٹرائٹ سے تعلق رکھنے والے اس ڈرائیور نے کوئی دو ہفتے قبل سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی اور اس میں ایک عورت پرمُنھ کو ڈھانپے بغیر کھانسنے پر سخت الفاظ میں تنقید کی تھی۔

اس ڈرائیور نے 21 مارچ کو فیس بُک پر ویڈیو پوسٹ کی تھی اور اس میں کہا تھا:’’ہم پبلک ورکر کی حیثیت سے اپنا کام کررہے ہیں۔اپنے خاندانوں کے لیے دیانت دارانہ طریقے سے روٹی روزی کمانے کی کوشش کررہے ہیں۔لیکن جب آپ بس میں سوار ہوتے ہیں اور کھڑے ہوتے ہیں تو اپنے مُنھ کو ڈھانپے بغیر کئی مرتبہ کھانستے ہیں۔کیا آپ جانتے ہیں کہ ہم اس وَبا کی زد میں ہیں۔بعض اجڈ لوگ تو بالکل بھی خیال نہیں کرتے ہیں۔‘‘

اس ڈرائیور نے مزید کہا کہ ’’ہمیں تو یہ کام کرنا ہے اور ان حالات میں سے گزر کر کرنا ہے لیکن آپ سب لوگوں کو اس معاملے کو سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔اس وبا سے لوگ یہاں مررہے ہیں۔‘‘

مقامی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مسٹر ہارگروو نامی اس اس پچاس سالہ ڈائیور نے اپنی بس کے باہر یہ ویڈیو ریکارڈ کرائی تھی۔پھر وہ کرونا وائرس کا شکار ہوگیا اور اس کے دس روز بعد چل بسا ہے۔وہ چھے بچوں کا باپ تھا۔

مسٹر ہارگروو کی اس ویڈیو کو پانچ لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا جاچکا ہے۔اس کو امریکی نیوز چینلوں کے پرائم ٹائم پروگراموں میں بھی دکھایا جاچکا ہے۔امریکا میں وہ کم اجرتوں پر کام کرنے والے ورکروں کا چہرہ بن کر ابھرا ہے جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر لاک ڈاؤن میں لوگوں کو سفری خدمات مہیا کررہے ہیں مگر خود ان کا کوئی پُرسان حال نہیں ہے۔

بس ڈرائیوروں کی یونین کے صدر گلین ٹالبرٹ نے شکایت کی ہے کہ حکومت ان کے ممبروں کے تحفظ کے لیے کچھ بھی نہیں کررہی ہے۔انھوں نے سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ہمیں کسی ڈاکٹر سے زیادہ بیمار لوگوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ہم کسی مریض کا کسی طبیب تک پہنچنے سے قبل سامنا کرتے ہیں کیونکہ ہم ہی بیماروں کو اسپتالوں میں پہنچاتے ہیں۔‘‘

ڈیٹرائٹ کے میئر مائیک ڈوگن کا کہنا ہے کہ انھوں نے ہارگروو کی ویڈیو دیکھی ہے اور وہ امریکا میں ہرکسی سے یہ کہیں گے کہ وہ اس ویڈیو کو ضرور دیکھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق انھوں نے کہا:’’ میں نہیں جانتا کہ آپ اس ویڈیو کو کس طرح دیکھتے ہیں اور پھر آپ کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑتے ہیں۔وہ جانتا تھا کہ وہ جب ڈیٹرائٹ کے شہریوں کی خدمت کے لیے کام پر جارہا تھا تو اس کی زندگی کسی غیر محتاط شخص کی وجہ سے خطرے سے دوچار ہوجائے گی۔کسی ایسے شخص کی وجہ سے، جس نے اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا اور وہ اس دنیا کو چھوڑ کر چلا گیا ہے۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند