تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
سعودی عرب :گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے327 نئے کیس ریکارڈ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 19 ذوالحجہ 1441هـ - 9 اگست 2020م
آخری اشاعت: بدھ 14 شعبان 1441هـ - 8 اپریل 2020م KSA 21:35 - GMT 18:35
سعودی عرب :گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے327 نئے کیس ریکارڈ
القطیف میں دو سعودی خواتین چہرے پر حفاظتی ماسک پہنے چہل قدمی کررہی ہیں۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کی وزارتِ صحت نے گذشتہ 24 گھنٹے میں کرونا وائرس کے327 نئے کیسوں کی تصدیق کی ہے۔ مملکت میں اب کل کیسوں کی تعداد 2932 ہوگئی ہے۔

وزارت صحتِ کے ترجمان کے مطابق اب تک کرونا وائرس کا شکار 631 افراد صحت یاب ہوچکے ہیں اور مہلک وَبا سے 41 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

سعودی وزیرصحت توفیق الربیعہ نے خبردار کیا ہے کہ مملکت میں آیندہ چند ہفتوں کے دوران میں کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد بڑھ کر ایک لاکھ سے دو لاکھ تک ہوسکتی ہے۔انھوں نے سعودی اور غیرملکی ماہرین کے چار تحقیقی مطالعات پر مبنی یہ اعداد وشمار جاری کیے ہیں۔

ڈاکٹر توفیق الربیعہ نے کہا:’’اس میں کوئی شک نہیں کہ ہدایات اور طریق کار کی پاسداری کی وجہ سے کرونا وائرس کے کیسوں کی تعداد کو کم سے کم رکھنے میں مدد ملی ہے جبکہ ان ہدایات پر عمل درآمد نہ کرنے کی صورت میں کیسوں کی تعداد میں بہت زیادہ اضافہ ہوسکتا ہے۔‘‘

انھوں نے کہا کہ ان مطالعات سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کرونا وائرس کے کیسوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور ان میں کمی واقع نہیں ہورہی ہے۔اب مستقبل میں اس مہلک وائرس کے کیسوں کی تعداد کا انحصار ہر کسی کے تعاون اور حکومت کی جاری کردہ رہ نما ہدایات اور احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد پر ہے۔

سعودی عرب نے مہلک وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے مختلف تدابیر اختیار کی ہیں اور دارالحکومت الریاض سمیت کئی ایک شہروں میں 24 گھنٹے کا کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ نے پانچ شہروں الریاض،تبوک ، الدمام ، ظہران ، الہفوف کے علاوہ چار گورنریوں جدہ ، طائف ، القطیف اور الخُبر میں دن رات کا کرفیو اور لاک ڈاؤن نافذ کیا ہے۔

سعودی حکومت نے قبل ازیں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں 24 گھنٹے کا کرفیو اور مکمل لاک ڈاؤن نافذ کردیا تھا اور الحرمین الشریفین (مسجد الحرام اور مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم) میں تاحکم ثانی عام لوگوں کا داخلہ بند ہے اور ان کے وہاں نمازیں ادا کرنے پر پابندی عاید ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند