تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
حالیہ "مقامی دہشت گردی" کا مقصد امریکا کو سبوتاژ کرنا ہے: وزیر انصاف
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 5 ربیع الاول 1442هـ - 22 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: پیر 9 شوال 1441هـ - 1 جون 2020م KSA 14:30 - GMT 11:30
حالیہ "مقامی دہشت گردی" کا مقصد امریکا کو سبوتاژ کرنا ہے: وزیر انصاف
امریکی وزیر انصاف ولیم بار۔
واشنگٹن - بندر الدوشی

امریکی وزیر انصاف ولیم بار نے ملک کے شہروں میں پُر تشدد کارروائیوں کو "مقامی دہشت گردی" قرار دیا ہے۔

اتوار کی شام جاری ایک بیان میں انہوں نے باور کرایا کہ " پُر امن اور قانونی احتجاج کی آوازوں" کو متشدد اور انتہا پسند عناصر نے ہائی جیک کر لیا ہے۔ بار کے مطابق بیرونی شدت پسند اور اشتعال دلانے والے عناصر اپنی انتہا پسند اور پر تشدد کارروائیوں کا ایجنڈا پورا کرنے کے واسطے موجودہ صورت حال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں"۔

امریکی وزیر قانون نے واضح کیا کہ اس قسم کی غیر قانونی سرگرمیاں ظلم کے خلاف کارروائیوں کی قدرت کو سبوتاژ کر رہی ہیں ... اور درحقیقت عدم مصالحت کے کام آ رہی ہیں۔

ولیم بار نے اس عزم کا اظہار کیا کہ قانون اور نظام کی بالادستی کو پھر سے مضبوط بنانے کے لیے ضرورت پڑی تو نیشنل گارڈز کے دستوں کی تعیناتی کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ان بنیاد پرست جماعتوں کا مقصد یہ ہے کہ مصالحت سے روکا جائے اور ہمیں ایک دوسرے سے دُور کر دیا جائے ،،، ہم انہیں کامیاب نہیں ہونے دے سکتے"۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ "وفاقی قانون کے لاگو کرنے کے اقدامات کے تحت شدت پسند اشتعال انگیز عناصر کو پکڑا جائے گا .. جنہوں نے پر امن احتجاج کو ہائی جیک کیا اور وفاقی قانون کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا"۔

اس سے قبل امریکی صدر یہ اعلان کر چکے ہیں کہ حالیہ انارکی میں مرکزی کردار ادا کرنے والے "اینٹیفا" گروپ کو سرکاری طور پر دہشت گرد تنظیم قرار دیا جائے گا۔

مینی سوٹا اور کئی دیگر مرکزی آبادیاتی علاقوں میں احتجاجی مظاہروں کا آغاز گذشتہ ہفتے مینیاپولس کی پولیس کے ہاتھوں اک سیا فام شہری جورج فلوئڈ کی ہلاکت کے بعد ہوا۔ مینیاپولس، اٹلانٹا اور واشنگٹن میں احتجاجی مظاہروں نے پرتشدد کارروائیوں کی صورت اختیار کر لی۔ یہاں بلوائیوں نے عمارتوں کو آگ لگا دی، دکانوں اور اسٹورز کو لُوٹ لیا اور پولیس کے ساتھ ان کی جھڑپیں بھی ہوئیں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند