تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یو این رپورٹ نے خطے کے لیے ایران کی ’اندھی سوچ’ بے نقاب کر دی: شہزادہ خالد
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 23 ذوالحجہ 1441هـ - 13 اگست 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 11 ذیعقدہ 1441هـ - 2 جولائی 2020م KSA 09:41 - GMT 06:41
یو این رپورٹ نے خطے کے لیے ایران کی ’اندھی سوچ’ بے نقاب کر دی: شہزادہ خالد
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے باور کرایا ہے کہ ایران کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ تہران کے نظام کا حقیقی چہرہ ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ ایران کو ہتھیاروں کی ترسیل روکے۔

شہزادہ خالد نے بدھ کے روز اپنے بیان میں واضح کیا کہ سعودی عرب کا اقوام متحدہ کے ذریعے تحقیقات کا فیصلہ ایران کی کارستانیاں روکنے کے لیے کیا گیا۔

ادھر اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے مندوب عبداللہ المعلمی نے باور کرایا ہے کہ ایران کو اس سے زیادہ تباہ کن برتاؤ کا موقع نہیں دیا جانا چاہیے۔

بدھ کے روز ایک پریس کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ "ہم سلامتی کونسل سے توقع رکھتے ہیں کہ ایران پر ہتھیاروں کی پابندی کے فیصلے میں توسیع کر دی جائے گی"۔

المعلمی کا مزید کہنا تھا کہ "ہم نے ایرانی دھمکیوں اور اشتعال انگیزیوں کا بہت سامنا کیا ہے"۔

اس سے قبل امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ ایران پر عائد ہتھیاروں کی پابندی اٹھا لینے سے خطے میں کشیدگی میں اضافہ ہو گا۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ واشنگٹن ایران کو ایک بار پھر خطے کا استحکام متزلزل کرنے کی اجازت نہیں دے گا۔

آرامکو پر حملے میں ایران کے ملوث ہونے کے ثبوت

پومپیو کے مطابق دنیا بھر میں حکومتیں ایران کے جدید ہتھیار حاصل کرنے کو مسترد کرتی ہیں۔ ایران نے حالیہ قیود کی پاسداری نہیں کی اور وہ ابھی تک خلاف ورزیوں کا ارتکاب کر رہا ہے۔ دیگر ممالک کو دھمکانے اور دہشت گرد سرگرمیوں کی سپورٹ کا سلسلہ جاری رہنے کی صورت میں ایران پر بطور ایک ذمے دار ریاست اعتماد نہیں کیا جا سکتا۔

ابھا ائیرپورٹ پر حملے میں استعمال ہونے والے ہتھیار

واضح رہے کہ سعودی عرب نے ایران کے حوالے سے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا خیر مقدم کیا تھا۔ رپورٹ میں سعودی عرب کے خلاف حملوں میں ایران کے براہ راست ملوث ہونے کی تصدیق کی گئی۔ اس میں انکشاف کیا گیا کہ ستمبر 2019 میں ارامکو کی تیل کی تنصیبات پر ہونے والے حملوں کا ذمے دار تہران ہے۔ اس کے علاوہ ابہا شہر کے ہوائی اڈے کو کروز میزائل اور ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنانے میں بھی ایران کا ہاتھ ہے۔ سعودی عرب نے اعلان کیا کہ وہ اپنی قومی سلامتی کو ضرر پہنچانے کی ہر گز اجازت نہیں دے گا۔

ابھا ائیرپورٹ پر حملہ

اقوام متحدہ میں سعودی مندوب نے انکشاف کیا کہ اب تک 60 سے زیادہ کشتیاں روکی جا چکی ہیں جن میں ایرانی اسمگل شدہ اسلحہ لدا ہوا تھا۔ مندوب کے مطابق سعودی عرب نے اب تک ایران کی اشتعال انگیزیوں کا مقابلہ کرنے میں انتہائی تحمل کا مظاہرہ کیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند