تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران اور داعش سے نمٹنے کے لیے عراق اور شام میں موجود ہیں : امریکی کمانڈر جنرل میکنزی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 ربیع الاول 1442هـ - 26 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 23 ذوالحجہ 1441هـ - 13 اگست 2020م KSA 12:13 - GMT 09:13
ایران اور داعش سے نمٹنے کے لیے عراق اور شام میں موجود ہیں : امریکی کمانڈر جنرل میکنزی
جنرل کینیتھ میکنزی
واشنگٹن - بندر الدوشی

مشرق وسطی میں اعلی امریکی عسکری کمانڈر جنرل کینیتھ میکنزی نے باور کرایا ہے کہ عراق اور شام میں ایران کے شرپسند نفوذ کا مقابلہ کرنے کے لیے امریکا اور نیٹو کی افواج کی طویل المدت موجودگی کا سلسلہ جاری رہے گا۔

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی کمانڈر نے یہ بات بدھ کے روز یو ایس انسٹی ٹیوٹ فار پیس کے زیر اہتمام ایک سیکورٹی کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ مہینوں میں غالبا عراق اور شام میں امریکی فوجیوں کی تعداد میں کمی لائی جائے گی، تاہم انہیں ابھی تک افواج کے انخلا کے احکامات نہیں ملے۔ پینٹاگان کی مرکزی کمان کے سربراہ جنرل کینیتھ میکنزی کے مطابق عراق میں 5200 امریکی فوجی موجود ہیں جن کا مقصد داعش کی باقیات سے نمٹنا اور عراقی فورسز کو تربیت دینا ہے۔ تاہم بغداد حکومت کے ساتھ مشاورت کے بعد "اس میں ترمیم" کی جائے گی۔

جنرل میکنزی نے اس توقع کا اظہار کیا کہ امریکی افواج اور نیٹو فورسز عراق میں "طویل المیعاد موجودگی" برقرار رکھیں گی تا کہ شدت پسندوں کا قلع قمع کیا جا سکے اور ملک میں ایرانی نفوذ پر روک لگائی جا سکے۔ جنرل میکنزی نے عسکری وجود کے آئندہ حجم کے بارے میں بتانے سے انکار کر دیا تاہم بعض دیگر امریکی عہدے داران کا کہنا ہے کہ عراقی ذمے داران کے ساتھ رواں ماہ دوبارہ شروع ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں امریکی فوجیوں کی تعداد کم ہو کر 3500 تک آ سکتی ہے۔

اگرچہ گذشتہ برس موسم خزاں میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شام میں موجود تمام 1000 امریکی فوجیوں کے انخلا کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔ تاہم اب بھی شام میں 500 کے قریب فوجی موجود ہیں جن میں اکثریت ملک کے شمال مشرق میں ہے۔ ان کا مقصد داعش کے جنگجوؤں کی بقیہ ٹولیوں کے خلاف لڑائی میں مقامی کرد شامیوں کی مدد کرنا ہے جو واشنگٹن کے حلیف ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کچھ عرصہ قبل اعلان کیا تھا کہ افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد 8600 سے کم کر کے تقریبا 5000 تک لائی جائے گی۔ اسی طرح ٹرمپ نے جرمنی میں موجود 12 ہزار فوجیوں کے انخلا کا اعلان کیا۔ ان میں سے 6400 کے قریب واپس وطن آ جائیں گے اور تقریبا 5600 فوجیوں کو یورپ کے دیگر ملکوں میں بھیجا جائے گا۔

جنرل میکنزی اور دیگر امریکی عہدے داران کے مطابق عراق اور شام میں مقامی فورسز کی داعش تنظیم سے تنہا نمٹنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا ہے لہذا امریکا وہاں سے اپنی افواج کے انخلا پر غور کر سکتا ہے۔ انسداد دہشت گردی سے متعلق امریکی اور عراقی ذمے داران کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم اب بھی حملے کرنے کی قدرت رکھتی ہے۔

پینٹاگان عراق میں کم از کم حد سے زیادہ سطح پر فوجی وجود برقرار رکھنا چاہتا ہے کیوں کہ وہاں ایران کی حمایت یافتہ مسلح ملیشیاؤں کی جانب سے امریکی فوجیوں کو حملوں کا نشانہ بنایا گیا ہے۔

جنرل میکنزی نے عراق میں ایران نواز ملیشیاؤں کا مقابلہ کرنے کے سلسلے میں نئے وزیر اعظم مصطفی الکاظمی کی اولین کوششوں کو سراہا۔ یہ عراقی ملیشیائیں باقاعدگی کے ساتھ امریکی فورسز اور شخصیات پر راکٹ داغتی ہیں۔

جنرل میکنزی کے مطابق وہ عراق میں ماحول ٹھنڈا کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ ان کا واضح اشارہ رواں سال جنوری میں ایران کے ایک سینئر ترین جنرل قاسم سلیمانی کی ہلاکت کی جانب تھا۔ سلیمانی بغداد ہوائی اڈے کے باہر امریکی ڈرون طیارے میں مارا گیا تھا۔ اس حملے نے عراقی پارلیمنٹ کے کئی ارکان کو چراغ پا کر دیا تھا۔ ان ارکان نے ملک سے امریکی افواج کے مکمل انخلا کا مطالبہ کر دیا۔

دوسری جانب شام کے شمال مشرق میں امریکی افواج کُرد حلیفوں "سیرین ڈیموکریٹک فورسز" کے ساتھ قریب سے کام کر رہی ہے۔ اس کا مقصد داعش تنظیم کے بچے کھچے جنگجوؤں کا قلع قمع کرنا ہے۔ جنرل میکنزی کے مطابق اب مسلح عناصر دریائے فرات کے مشرق میں مقامی سطح پر متفرق پرتشدد کارروائیوں تک محدود رہ گئے ہیں۔ مذکورہ علاقے پر امریکا کی حمایت یافتہ کرد فورسز کا کنٹرول ہے۔

جنرل میکنزی نے بتایا کہ داعش تنظیم نے دریائے فرات کے مغربی جانب مزید رفتار پکڑی ہے۔ اس جانب شام کی سرکاری فورسز اور ان کو سپورٹ کرنے والی روسی فورسز کا کنٹرول ہے۔ امریکی جنرل کے مطابق دریا کے مغربی جانب صورت حال بہت خراب ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند