تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
متحدہ عرب امارات میں مقیم یہودی برادری اسرائیل سے امن معاہدے پر خوش
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 3 جمادی الثانی 1442هـ - 17 جنوری 2021م
آخری اشاعت: جمعہ 24 ذوالحجہ 1441هـ - 14 اگست 2020م KSA 17:02 - GMT 14:02
متحدہ عرب امارات میں مقیم یہودی برادری اسرائیل سے امن معاہدے پر خوش
العربیہ ڈاٹ نیٹ

متحدہ عرب امارات میں مقیم یہود کی کمیونٹی نے ملک کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کا پُرجوش انداز میں خیرمقدم کیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے پورے مشرق اوسط میں امن کے قیام کی راہ ہموار ہوگی ۔

جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والی ایلی کریل نے اس امن معاہدے کے تاریخی موقع پر اپنے اماراتی میزبانوں کو عربی کھانے پیش کیے ہیں۔ وہ یواے ای میں یہود کے مخصوص پکوان پیش کرنے والے ایک ریستوراں کی بانی ہیں۔

انھوں نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں اپنے ایک اماراتی صارف کے لیے کھانا تیار کررہی تھی۔ جب میں نے انھیں یہ کھانا پیش کیا تو انھوں نے مجھے تبادلے میں مقامی کھجوروں کے دو ڈبے تحفے میں دیے ہیں۔یہ اس تاریخی موقع پر ایک بڑا مناسب تحفہ ہے۔‘‘

کریل گذشتہ سات سال سے یو اے ای میں رہ رہی ہیں۔ انھوں نے حال ہی میں خطۂ خلیج میں پہلی کوشر کھانا سروس شروع کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان امن معاہدے پر بہت خوش ہیں۔اس سے مشرق اوسط میں مزید مثبت پیش رفتوں کی راہ ہموار ہوگی۔

انھوں نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان براہ راست پروازوں کی بحالی کی خبر پر خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ وہ اسرائیلی زائرین کی میزبانی کو تیار ہیں اور انھیں کوشر کھانے پیش کریں گی۔

امن معاہدے کے مطابق’’اسرائیل اور یو اے ای کے وفود آیندہ ہفتوں کے دوران میں ملاقات کریں گے اور وہ سرمایہ کاری ، سیاحت ، براہ راست پروازیں شروع کرنے ، سکیورٹی ، ٹیلی مواصلات ، ٹیکنالوجی ، توانائی ، تحفظ صحت ، ثقافت ، ماحول اور ایک دوسرے کے ملک میں اپنے اپنے سفارت خانے کھولنے اور بعض دوسرے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ کے لیے مختلف سمجھوتوں پر دست خط کریں گے۔‘‘

کریل کے خاوند راس نے ، جو امارات میں یہودی کونسل کے صدر ہیں،بھی امن معاہدے کو سراہا ہے اور کہا کہ یہ دراصل متحدہ عرب امارات کی بلند حوصلگی اور خطے میں امن اور معاشی ترقی کے مواقع کی تلاش کے لیے مثبت روش کا مظہر ہے۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو میں کہا کہ ’’ ہماری کمیونٹی کے ارکان اسرائیل کے لیے براہِ راست پروازوں کے آغاز کے منتظر ہیں اور یو اے ای میں اسرائیلی دوستوں اور زائرین کا خیرمقدم کرنےکو تیار ہیں۔‘‘

یو اے ای کے چیف ربی یہودہ سرنا نے امن معاہدے کو ملک کے قائدین کے مستقبل کے ویژن کا غماز قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ یہ معاہدہ دراصل ابو ظبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زاید آل نہیان کے باہمی تعامل اور رواداری پر مبنی ویژن کی پیداوار ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ امن معاہدے کی میرے لیے سب سے خوش نما بات تعلیم اور ثقافت کے شعبوں میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون کے نئے مواقع ہیں۔

دبئی میں گذشتہ پانچ سال سے مقیم نوجوان امریکی شہری ڈیوڈ زیبنسکی کا کہنا تھا کہ یہ نئی سفارتی پیش رفت اسرائیل اور پوری عرب دنیا کے درمیان تعاون کے لیے ایک پل کا کام کرے گی۔اس تعاون کا اصل آغاز تو اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدے سے ہوگا۔

انھوں نے العربیہ سے گفتگو میں بتایا کہ’’دبئی میں بعض اماراتی اور فلسطینی میرے قریبی دوست ہیں اور مجھے امید ہے کہ اس نئے امن معاہدے سے کمیونیٹوں کے درمیان حائل دیواریں گر جائیں گی اور جلد وہ وقت آئے گا جب مسلمان اور یہود باہم مل کر رمضان میں اکٹھے افطار کررہے ہوں گے یا یوم سبت پر کھانا کھا رہے ہوں گے۔‘‘

اسرائیل کا کسی عرب ملک کے ساتھ گذشتہ 25 سال کے بعد یہ پہلا امن معاہدہ ہے۔اس سے پہلے عرب ممالک میں سے مصر اور اردن کے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات استوار ہیں۔ مصر نے اسرائیل کے ساتھ 1979ء میں کیمپ ڈیوڈ میں امن معاہدہ طے کیا تھا۔اس کے بعد 1994ء میں اردن نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کے بعد سفارتی تعلقات استوار کیے تھے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ثالثی میں طے شدہ معاہدے کے تحت اسرائیل اور متحدہ عرب امارات معمول کے مکمل سفارتی تعلقات قائم کریں گے اور اسرائیل اس کے بدلے میں غرب اردن میں فلسطینیوں کی مزید اراضی کو نہیں ہتھیائے گا۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل نے غربِ اردن میں واقع اپنے زیر قبضہ وادی اردن اور بعض دوسرے علاقوں کو ریاست میں ضم کرنے کے منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔نیتن یاہو نے ان علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کا اعلان کررکھا تھا۔فلسطینی اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر مشتمل علاقوں میں اپنی ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں جس کا دارالحکومت القدس ہو۔فلسطینی قیادت نے اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان اس امن معاہدے کو مسترد کردیا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند