تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
یو اے ای نے اسرائیل سےڈیل ایران کی وجہ سے نہیں کی،ترک صدر کی تنقید مسترد
ڈیل کے ذریعے ایران کے خلاف کسی طرح کی کوئی گروپ بندی نہیں کی جارہی ہے:انور قرقاش
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 6 جمادی الثانی 1442هـ - 20 جنوری 2021م
آخری اشاعت: اتوار 26 ذوالحجہ 1441هـ - 16 اگست 2020م KSA 23:34 - GMT 20:34
یو اے ای نے اسرائیل سےڈیل ایران کی وجہ سے نہیں کی،ترک صدر کی تنقید مسترد
ڈیل کے ذریعے ایران کے خلاف کسی طرح کی کوئی گروپ بندی نہیں کی جارہی ہے:انور قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش دبئی میں صحافیوں سے گفتگو کررہے ہیں۔ فائل تصویر
العربیہ ڈاٹ نیٹ

متحدہ عرب امارات نے کہا ہے کہ اس نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کا فیصلہ ایران کا مقابلہ کرنے کے لیے نہیں کیا ہے۔اس نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کی امن ڈیل پر تنقید مسترد کردی ہے۔

متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے امور خارجہ انور قرقاش نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’یہ ڈیل ایران کے بارے میں نہیں،یہ یو اے ای ، اسرائیل اور امریکا سے متعلق ہے۔‘‘

انھوں نے واضح کیا کہ اس کا کسی بھی طرح یہ مطلب نہیں کہ اس کے ذریعے ایران کے خلاف کسی طرح کی کوئی گروپ بندی کی جارہی ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اس سمجھوتے سے متعلق یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ وہ اس کے ذریعے ایران کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں اور دنیا میں اس کو مزید تنہائی کا شکار کرنا چاہتے ہیں لیکن انور قرقاش نے اپنے ملک کے بارے میں ایسے کسی تاثر کی نفی کی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ یو اے ای اپنے ہمسایہ ملک کو اشتعال نہیں دلانا چاہتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ’’ ایران کے ساتھ ہمارے تعلقات بہت ہی پیچیدہ ہیں۔ہمارے اپنے کچھ تحفظات ہیں مگر اس کے باوجود ہم محسوس کرتے ہیں کہ اس کے ساتھ متنازع امور کو سفارت کاری کے ذریعے طے کیا جانا چاہیے اور کشیدگی نہیں ہونی چاہیے۔‘‘

اماراتی وزیر خارجہ نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے یو اے ای سے سفارتی تعلقات معطل کرنے کے دھمکی آمیز بیان کو بھی مسترد کردیا ہے اور اس کو دُہرے معیار کا حامل قرار دیا ہے کیونکہ ان کے بہ قول ترکی نے توخود اسرائیل کے ساتھ تجارتی اور سیاسی تعلقات قائم کررکھے ہیں۔

انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’’ ترکی میں ہر سال پانچ لاکھ سے زیادہ اسرائیلی سیاح آتے ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ سالانہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالر ہے۔اسرائیل میں ترکی کا سفارت خانہ کھلا ہوا ہے۔اس صورت حال میں،میں تو خود سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا یہ اصولی مؤقف ہے یا نہیں۔‘‘

ترک صدر ایردوآن نے اسرائیل سے امن معاہدہ طے کرنے پر متحدہ عرب امارات کے ساتھ سفارتی تعلقات معطل کرنے کی دھمکی دی تھی۔انھوں نے جمعہ کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دونوں ملکوں میں امن معاہدے کے ردعمل میں کہا کہ ’’ فلسطینیوں کے خلاف یہ اقدام ہضم نہیں کیا جاسکتا۔فلسطین اگر یو اے ای میں اپنا سفارت خان بند کرتا ہے یا اپنے سفیر کو واپس بلا لیتا ہے تو ہم بھی ایسا کریں گے۔‘‘

یو اے ای کے ساتھ معاہدے کے تحت اسرائیل نے غربِ اردن کے بعض علاقوں کو ضم کرنے کے اعلان کردہ منصوبے سے دستبردار ہونے سے اتفاق کیا ہے۔انور قرقاش کا کہنا تھا کہ ’’ہمیں فلسطینی علاقوں کو صہیونی ریاست میں ضم کرنے کے معاملے پر بہت تشویش لاحق تھی۔اس تصوراتی اعلامیے کے ذریعے ہم کم سے کم مذاکرات کو جگہ دینے کے تو قابل ہوئے ہیں۔‘‘

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند