تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان فوج کے کمانڈوز پر طالبان کا ٹرک بم حملہ ، تین افراد ہلاک ، 41 زخمی
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 ربیع الاول 1442هـ - 26 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: منگل 6 محرم 1442هـ - 25 اگست 2020م KSA 20:58 - GMT 17:58
افغان فوج کے کمانڈوز پر طالبان کا ٹرک بم حملہ ، تین افراد ہلاک ، 41 زخمی
افغانستان کے شمالی صوبہ بلخ میں ٹرک بم دھماکے کے زخمیوں کو مزارشریف شہر میں ایک اسپتال میں منتقل کیا جارہا ہے۔ فائل تصویر
کابل ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

افغانستان کے شمالی صوبہ بلخ میں طالبان نے فوج کے کمانڈوز پر ٹرک بم حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں تین افراد ہلاک اور اکتالیس زخمی ہوگئے ہیں۔

طالبان نے ٹویٹر پر ایک بیان میں اس ٹرک بم دھماکے کی ذمے داری قبول کرلی ہے اور کہا ہے کہ انھوں نے افغان فوج کے کمانڈوز کو اس حملے میں نشانہ بنایا ہے۔

افغان وزارت دفاع نے اس حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہاہے کہ اس میں کمانڈو فورس کے دو اہلکار مارے گئے ہیں اور چھے زخمی ہوگئے ہیں۔باقی تمام زخمی عام شہری ہیں۔

بلخ میں یہ ٹرک بم حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب طالبان کا ایک وفد ملّا عبدالغنی برادر کی قیادت میں افغانستان میں قیام امن کے بارے میں بات چیت کے لیے اسلام آباد میں ہے۔

وفد نے آج پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی ہے اور ان سے طالبان اور امریکا کے درمیان طے شدہ سمجھوتے پر پیش رفت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا ہے۔

اس سمجھوتے کے تحت طالبان نے ملک میں تشدد میں کمی سے اتفاق کیا تھا لیکن برسرزمین ان کے افغان فورسز پر حملوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔افغان حکومت قطر کے دارالحکومت دوحہ میں طالبان سے مذاکرات کے لیے جنگ بندی کا مطالبہ کررہی ہے جبکہ طالبان اس مطالبے کو مسترد کرچکے ہیں۔

سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان نے حالیہ مہینوں کے دوران میں افغان طالبان پر تشدد میں کمی کے لیے دباؤ ڈالا ہے اور ان پر افغان حکومت سے مذاکرات کی بحالی کے زور دے رہا ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے طالبان سے بات چیت میں پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا ہے کہ جنگ زدہ ملک میں جاری تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں اور اس کو مذاکرات کے ذریعے ہی طے کیا جاسکتا ہے۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند