تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
افغان امن مذاکرات کا آغاز،جامع جنگ بندی اور خواتین کے حقوق کی پاسداری پر زور
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

پیر 9 ربیع الاول 1442هـ - 26 اکتوبر 2020م
آخری اشاعت: اتوار 25 محرم 1442هـ - 13 ستمبر 2020م KSA 23:32 - GMT 20:32
افغان امن مذاکرات کا آغاز،جامع جنگ بندی اور خواتین کے حقوق کی پاسداری پر زور
افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ دوحہ میں بین الافغان امن مذاکرات کی افتتاحی تقریب میں خطاب کررہے ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ

افغان حکومت اور طالبان مزاحمت کاروں کے وفود کے درمیان قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہفتے کے روز امن مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

دوحہ میں افغان حکومت اور طالبان کے نمایندوں کے درمیان امن عمل کی افتتاحی تقریب امریکا پر نائن الیون کے حملوں کی انیسویں برسی سے ایک روز بعد منعقد ہوئی ہے۔ان حملوں کے ردعمل میں امریکا نے اکتوبر2001ء میں افغانستان میں فوجی مداخلت کا آغاز کیا تھا۔پہلے امریکا اور اس کے اتحادی ممالک نے فضائی حملے شروع کیے تھے۔ اس کے بعد اپنی بری افواج افغانستان میں اتار دی تھیں۔تب سے وہاں لڑائی جاری ہے۔

افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے متحارب فریقوں پر زوردیا ہے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور ایک جامع امن معاہدہ طے کریں۔ البتہ انھوں نے یہ بات تسلیم کی ہے کہ ابھی بہت سے چیلنجز درپیش ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’’آپ کا سیاسی نظام آپ کا اپنا انتخاب کردہ ہوگا اور اس کو آپ نے خود ہی بنانا ہے۔ہم اس بات میں پختہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام افغانوں کے حقوق کے تحفظ کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ تشدد کے چکر کو توڑیں۔‘‘

افغان امن کونسل کے سربراہ عبداللہ عبداللہ نے اس موقع پر کہا کہ اگر طرفین کا تمام نکات پر اتفاق نہیں بھی ہوتا تو انھیں ان پر سمجھوتا کرنا چاہیے اور افہام وتفہیم سے کام لینا چاہیے۔

انھوں نے کہا:’’میرا وفد دوحہ میں ہے۔یہ ایک ایسے سیاسی نظام کی نمایندگی کرتا ہے جس کو مختلف ثقافتی ، سماجی اور نسلی پس منظر رکھنے والے لاکھوں مرد وخواتین کی حمایت حاصل ہے۔‘‘

طالبان وفد کے سربراہ ملّا عبدالغنی برادر اخوند نے اپنی تقریر میں کہا کہ ’’افغانستان میں ایک اسلامی نظام ہونا چاہیے۔ملک کے تمام قبائل اور نسلی اقلیتیں اس کے مطابق بلاتفریق زندگیاں گزاریں اور باہمی بھائی چارے اور محبت سے رہیں۔‘‘

مائیک پومپیو نے طالبان اور حکومت کے وفود کو خبردار کیا کہ امریکا کی جانب سے مستقبل میں افغانستان کی مالی امداد کا انحصار ان کے انتخاب اور عمل پر ہوگا۔

امریکا کے خصوصی ایلچی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد نے صحافیوں سے گفتگو میں مذاکرات میں ترجیحات کی وضاحت کی ہے کہ پہلے دہشت گردی کی روک تھام ایک بڑی شرط تھی لیکن اقلیتوں اور خواتین کے حقوق کے تحفظ کو مستقبل میں کانگریس کی منظور کردہ کی کسی بھی فنڈنگ میں اہمیت حاصل ہوگی اور اب خالی چیک نہیں دیا جائے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے ان مذاکرات کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں اور وہ فریقین کے درمیان امن ڈیل کو جنگ زدہ ملک کی مالی اعانت سے مشروط کرنا چاہتے ہیں۔اس ترغیب سے بین الافغان مذاکرات اگر کامیاب ہوجاتے ہیں تو ڈونلڈ ٹرمپ دوبارہ صدر امریکا منتخب ہونے کے لیے ان سے سیاسی فائدہ بھی اٹھا سکتے ہیں۔

متحارب فریقوں کے درمیان ان پہلے بالمشافہ مذاکرات سے قبل مختلف ملکوں اور گروپوں نے ان سے یہ مطالبہ کیا ہے کہ وہ افغانستان میں فوری طور پر جامع جنگ بندی کریں تاکہ امن عمل کو احسن طریقے سے آگے بڑھایا جاسکے۔ اس کے علاوہ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ سے متعلق ایک سمجھوتے پر دست خط کریں۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند