تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2020

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
نامعلوم ہیکروں کا ایران کے دو اہم سرکاری اداروں پر بڑے پیمانے پر سائبر حملہ
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

بدھ 9 ربیع الثانی 1442هـ - 25 نومبر 2020م
آخری اشاعت: جمعرات 27 صفر 1442هـ - 15 اکتوبر 2020م KSA 20:26 - GMT 17:26
نامعلوم ہیکروں کا ایران کے دو اہم سرکاری اداروں پر بڑے پیمانے پر سائبر حملہ
العربیہ ڈاٹ نیٹ

نامعلوم ہیکروں نے اس ہفتے ایرانی حکومت کے دو اہم اداروں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس پر بڑے پیمانے پر حملہ کیا ہے۔ایران کے ایک اعلیٰ عہدہ دار نے جمعرات کے روز اس سائبر حملے کی اطلاع دی ہے لیکن اس کی تفصیل بتائی ہے اور نہ یہ بتایا ہے کہ اس میں کس کا ہاتھ کارفرما ہے۔

ایران کی تنظیم برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ترجمان عبدالقاسم صادقی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ ’’اس سائبر حملے کے بعد بعض سرکاری اداروں نے حفظ ماتقدم کے طور پر عارضی طور پر انٹرنیٹ سروسز کو بند کردیا ہے۔‘‘

انھوں نے بتایا ہے کہ سوموار اور منگل کے روز بڑے پیمانے پر سائبر حملے کیے گئے تھے،ان کی اب تحقیقات کی جارہی ہے۔

ایران کا کہنا ہے کہ وہ آن لائن حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ہائی الرٹ ہے۔وہ ماضی میں امریکا اور دوسری غیرملکی ریاستوں پر اپنے اداروں کے کمپیوٹر نیٹ ورکس پر حملوں کے الزامات عاید کرتا رہا ہے۔

بعض امریکی حکام نے اکتوبر 2019ء میں امریکا کے ایران پر سائبر حملے کی اطلاع دی تھی۔ یہ سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر گذشتہ سال ستمبر میں ڈرون حملوں کے بعد کیا گیا تھا۔واشنگٹن اور الریاض نے تہران پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا مگر ایران نے اس میں ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔

تاہم ایران کے حمایت یافتہ یمن کے حوثی شیعہ باغیوں نے سعودی آرامکو کی تنصیبات پر ڈرون اور میزائل حملے کی ذمے داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

امریکا اور مغربی طاقتوں نے ایران پر اپنے کمپیوٹرنیٹ ورکس میں دراندازی اور انھیں ناکارہ بنانے کا بھی الزام عاید کیا تھا ۔ذرائع نے اپریل میں رائیٹرز کو بتایا تھا کہ ایران کے مفادات کے لیے کام کرنے والے ہیکروں نے کرونا وائرس کی وباکے دوران میں عالمی ادارہ صحت ( ڈبلیو ایچ او) کے عملہ کے ذاتی ای میل اکاونٹس کو اپنے حملوں میں ہدف بنایا تھا۔

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند