تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2021

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
ایران کے ساتھ مذاکرات میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا: بلنکن
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

اتوار 23 رجب 1442هـ - 7 مارچ 2021م
آخری اشاعت: بدھ 6 جمادی الثانی 1442هـ - 20 جنوری 2021م KSA 07:46 - GMT 04:46
ایران کے ساتھ مذاکرات میں خلیجی ممالک اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا: بلنکن
امریکا کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کے نامزد وزیرخارجہ انتھونی بلنکن
دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ

امریکا کے نو منتخب صدر جوبائیڈن کے نامزد وزیرخارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گی۔ان کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے جوہری مذاکرات میں خلیجی ریاستوں اور اسرائیل کو شامل کیا جائے گا۔

جوبائیڈن انتظامیہ کے مجوزہ وزیر خارجہ نے سینیٹ کے اجلاس سےخطاب میں کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ہے۔ اگر ایران ایٹمی ہتھیار حاصل کرلیتا ہے تو وہ اور زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔

بلنکن نے مزید کہا کہ ایران جوہری معاہدے کی پابندیوں سے خود کو آزاد کرنے کے لیے بہت سے اقدامات اٹھا رہا ہے۔ اب یہ ایران کی ذمہ داری ہے کہ وہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کے حصول سے روکے۔

جو بائیڈن انتظامیہ میں مستقبل کے وزیر خارجہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یک طرفہ ڈپلومیسی ترک کرنے اور امریکا کا عالمی سطح پر 'قائدانہ' کردار بحال کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کی نئی حکومت اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر چین اور دوسرے حریف ممالک کا مقابلہ کرے گی۔

اتتھونی بلنکن نے مزید کہا کہ ہم اپنے عالمی اتحاد کو مزید مضبوط کریں گے تاکہ عالمی سطح پر اپنے نفوذ میں‌ اضافہ کر سکیں۔ ہم ماضی کی نسبت آنے والے وقت میں شمالی کوریا، روس اور ایران جیسے ممالک کا مقابلہ کرنے کی بہتر پوزیشن میں ہوں‌گے۔ادھر جوبائیڈن انتظامیہ کی ایک خاتون عہدیدار اوریل ہینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران سے 2015ء میں طے شدہ جوہری سمجھوتے میں جلد دوبارہ شامل نہیں ہورہا ہے۔

اوریل ہینس

مس ہینس نے کہا کہ میرے خیال میں ہم ابھی ایران کی جانب سے جوہری سمجھوتے کی دوبارہ پاسداری سے کوسوں دور ہیں۔

جوبائیڈن کی نامزد ڈائریکٹر نے کہا کہ ’’ایران کے بیلسٹک میزائلوں کے پروگرام اوراس کی خطے میں دوسرے تخریبی سرگرمیوں پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘

انھوں نے سینیٹ کی کمیٹی کے روبرو اپنے تقرر کی توثیق کے لیے سماعت کے دوران میں چین سے تعلقات کے بارے میں بھی اظہارخیال کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ’’چین ہماری ترجیح اور ایک چیلنج ہوگا اور میں اس پر اپنی توجہ مرکوز کروں گی۔

نقطہ نظر

مزید