دمشق:ہوائی اڈے کے نزدیک کار بم دھماکے میں 10 فوجی ہلاک
صدربشارالاسد کے بھائی کے زیر کمان آرمی کی فورتھ ڈویژن کے فوجیوں پر بم حملہ
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع ایک ملٹری ہوائی اڈے کے نزدیک کار بم دھماکے میں دس سرکاری فوجی ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔
لندن میں قائم شامی آبزرویٹری برائے انسانی حقوق کے ڈائریکٹر رامی عبدالرحمان نے اپنے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ المزہ فوجی ہوائی اڈے کے نزدیک واقع ایک آرمی چیک پوائنٹ پر پہلے کار بم کے پھٹنے سے دھماکا ہوا اور اس کے بعد راکٹوں کے چھوٹے چھوٹے دھماکے ہوئے ہیں۔
آبزرویٹری کے مطابق دھماکوں کی آوازیں شامی دارالحکومت کے کئی حصوں میں سنی گئی ہیں اور آگ کے شعلے دور دور سے نظر آرہے تھے۔اس فوجی ہوائی اڈے کے تحفظ پر شامی آرمی کی ایلیٹ فورتھ ڈویژن مامور ہے۔شامی صدر بشارالاسد کے بھائی ماہر الاسد اس ڈویژن کی کمان کررہے ہیں۔
واضح رہے کہ دمشق اور اس کے نواحی علاقوں میں حالیہ مہینوں کے دوران متعدد بم دھماکے ہوئے ہیں۔29 اپریل کو مزہ ہی میں شامی وزیراعظم وائل الحلقی کی کار کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا تھا۔وہ اس حملے میں محفوظ رہے تھے۔البتہ ان کے محافظ مارے گئے تھے۔گذشتہ منگل کو دمشق کے وسط میں ایک پولیس اسٹیشن پر دو خودکش بم حملوں میں چودہ افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے تھے۔
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق شام میں صدر بشارالاسد کے خلاف مارچ 2011ء سے جاری عوامی احتجاجی تحریک اور خانہ جنگی میں ترانوے ہزار سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ہر ماہ اوسطاً پانچ سے چھے ہزار افراد تشدد کے واقعات میں مارے جارہے ہیں۔