تمام حقوق بحق العربیہ نیوز چینل محفوظ ہیں © 2019

دوست کو بھیجئے

بند کیجئے
آخر کب تک
دوست کا نام:
دوست کا ای میل:
بھیجنے والے کا نام:
بھیجنے والے کا ای میل:
Captchaکوڈ

 

جمعرات 15 ذیعقدہ 1440هـ - 18 جولائی 2019م
آخری اشاعت: پیر 25 ذیعقدہ 1434هـ - 30 ستمبر 2013م KSA 12:22 - GMT 09:22
آخر کب تک

 ٹی وی سکرین لہو سے رنگین ہے۔ سالوں سے ایسا ہی ہے۔ ایک ہی منظر کوئی کہاں تک دیکھے! کچھ باقی نہیں رہا۔ ریاست، سماج، حکومت، امید۔ لگتا ہے کسی نے کتابٰ حیات سے ان الفاظ کو کھرچ ڈالا ہے۔ اب اگر کچھ باقی ہے تو وہ بے حسی ہے۔


وہ بے حسی ہے مسلسل شکست دل سے منیر
کوئی بچھڑ کے چلا جائے، غم نہیں ہوتا

مذاکرات؟ کیجئے لیکن کب؟ جب پورا پاکستان قبرستان بن جائے گا؟ اے پی سی کو فیصلہ کئے بہت دن ہو گئے۔ ایک انچ کی پیش رفت نہیں ہوئی۔ کوئی ایجنڈا نہ رابطہ۔ حکومت کی طرف سے مکمل خاموشی لیکن فریق ثانی اپنے مشن میں پوری یک سوئی کے ساتح مصروف۔ اسکے عزم میں کوئی کمی ہے نہ پائوں میں کوئی لڑکھڑاہٹ۔ اس طرف معلوم ہوتا ہے کہ پائوں ہی نہیں ہے۔ لڑکھڑاہٹ کا تو سوال ہی کیا! بجلی وجلی ہمیں نہیں چاہیے ۔ ہمیں بس جینے کا حق مل جائے۔ اگر ریاست یہ کر سکتی ہے تو پھر ہم اس کے وجود کو تسلیم کریں گے۔

یہ مایوسی نہین جھنجھلاہٹ ہے۔ اس بات کی جھنجھلاہٹ کہ اہل پاکستان کا خون مسلسل بہہ رہا ہے اور کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی۔ ایک زخم بھرتا نہیں کہ دست قاتل پھر متحرک ہو جاتا ہے۔ کوئی طالبان کا دفتر کھولنا چاہتا ہے اور کوئی جانتا ہی نہیں کہ اسے کہاں سے آغاز کرنا ہے۔

ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق!

قوم اعصاب کی جنگ ہارتی جا رہی ہے کہ ہر بات کی حد ہوتی ہے۔ انسانی اعصاب لوہے کے بنے نہیں ہوتے۔ پوری قوم نفسیاتی مریض بن چکی ہے۔ کوئی قاتل کی محبت میں گرفتار ہے اور کوئی قاتل کے خوف میں۔ علماء، اہل دانش، سیاست دان اور حکومت ہر کوئی خوف میں مبتلا ہے یا پھر قاتلوں کا حامی۔ دونوں رویے غیر متوازن ہیں۔ ایسے میں داد رسی کون کرے گا؟ کون زخموں پہ مرہم رکھے گا؟ عوام کس کی طرف دیکھیں؟ مکرر عرض ہے کہ بجلی نہیں چاہیے، جان کی امان چاہیے اور یہ کہیں میسر نہیں۔ ایک دوسرے پر الزام دھرنے کا وقت گزر چکا۔ اب اگر اقدام نہیں ہو گا تو پھر کبھی نہیں ہو سکے گا۔

مذاکرات کیجیے لیکن پہلے ابہام کو تو خم کیجیے! یہ دھماکے کون کر رہا ہے؟ اہل پاکستان کے خون کی ہولی کون کھیل رہا ہے؟ بھارت؟ اگر یہ بھارت ہو تو جنرل اسمبلی کے خطاب میں وزیراعظم نے اسکا ذکر کیوں نہیں کیا؟ من موہن سنگھ نے ڈنکے کی چوٹ پہ کہا کہ پاکستان اس خطے میں دہشت گردی کا مرکز ہے۔ انہوں نے سفارتی آداب کو پیشی نظر نہیں رکھا۔ اگر پاکستان کا خیال یہ ہے کہ بھارت ایسا کر رہا ہے تو یہ کیوں ہے کہ بھارت سے اسکی شکایت کی گئی نہ کسی بین الاقوامی فورم پہ اس کے لیے آواز اٹھائی گئی؟ اگر یہ بھارت ہے تو کھل کر بات کریں اور پھر اسے الٹی میٹم دیں کہ وہ اپنی حرکتوں سے باز نہیں آئے گا تو اس سے کھلی جنگ ہو گی۔

روز مرنے سے کیا ایک دن مرنا بہتر نہیں؟ اگر بھارت نہیں ہے تو پھر کون ہے؟ وہ جنہیں ہم اپنا کہتے ہیں؟ اپنوں سے درخواست کیجیے۔ وہ جو کچح کہتے ہیں، مان لیجیے اور اس سلسلے کو ختم کیجیے۔ اگر مفاہمت ہوتی ہے تو اسکا آغاز کیجیے۔ اگر یہ نہیں تو پھر لڑ جائیے۔ اگر ریاست موجود ہو تو اسے کچھ کرنا ہو گا۔ اپنے وجود کا اثبات یا نفی۔ اگر دوسروں نے بزور نفی کو تو پھر کچھ باقی نہ رہے گا، اگر ابھی کچھ باقی ہے تو!

گزشتہ عام انتخابات میں عوام نے یہ مینڈیٹ ن لیگ کو دیا تھا کہ وہ انکے مستقبل کا فیصلہ کریں۔ ن لیگ نے عوامی ھمایت کا گیند تمام جماعتوں کے کورٹ میں پھینک دیا۔ ان میں وہ بھی شامل تھے جن پر عوام کو اعتبار نہ تھا۔ ان جماعتوں نے گیند دوبارہ حکومت کے کورٹ میں یہ کہہ کر پھینک دیا کہ وہ حکمت عملی بنائے۔ ابتک کوئی حکمت سامنے آسکی نہ عمل۔ اگر مذاکرات کرنے تحے تو پہلے ہی دن سب کام چھوڑ کر اسے پہلی ترجیح بنا لینا چاہیے تھا۔ اسکا ایجنڈا بننا چاہیے تھا۔ ان لوگوں کی نشان دہی ہونی چاہیے تھی جن سے بات کرنی ہے۔ انہیں کہنا چاہیے تھا کہ جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہو جاتا وہ اپنے ہتھیاروں کو خاموش رکھیں۔ مذاکرات کے فیصلے کا کم ازکم یہ نتیجہ تو اب تک سامنے آجانا چاہیے تھا کہ مزید پاکستانی دہشت گردی کی آگ کا ایندھن نہ بنتے۔ اس باب میں جب تب آسانی کا مظاہرہ ہوا، وہ حیران کن ہے۔

وزیراعظم دنیا سے یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمیں امداد نہیں چاہیے، ہم سے تجارت کی جائے۔ تجارت؟ وزیراعظم خود تاجر خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ کیا انہیں اندازہ نہیں کہ سرمایہ اندھا نہیں ہوتا؟ وہ کسی ایسے بازار کا رخ نہیں کرتا جہاں اپنا وجود ہی کھو دے۔ سرمایہ دارانہ معیشت کے علم بردار آخر کیوں پاکستان سے تجارت کریں گے جہاں سرمایہ تو دور کی بات انسان تک محفوظ نہیں۔ وہ اگر ہمیں امداد دے دیں تو یہ بھی انکی مہربانی ہے۔ یہ بات اگرچہ تلخ ہے لیکن کیا کیجیے کہ یہی حقیقت ہے۔ کون سا سرمایہ ہو گا جو کراچی کے لیاری یا پشاور کے قصہ خوانی بازار کا رخ کر ےگا؟ سوال سادہ ہے جو ریاست اپنے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ نہیں کر سکتی وہ غیر ملکیوں کو کیا ضمانت دے سکتی ہے؟

اس ابہام کے ساتھ پاکستان کا سنبھلنا مشکل ہے۔ فضل اللہ کی وڈیو سامنے آ چکی۔ اسکا کہنا ہے کہ ریاستی اداروں میں انکے حامی موجود ہیں۔ ان کی وجہ سے بنوں جیل پہ کامیاب حملہ ممکن ہوا۔ اس وڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح میجر جنرل کی گاڑی کو ہدف بنایا گیا۔ یہ احساس پہلے سے موجود ہے کہ جس طرح سماج یک سو نہیں ہے اسی طرھ ریاستی ادارے بھی یکسو نہیں ہیں۔ ابہام اسی کا نام ہے۔ اسکو دور کیے بغیر کوئی اقدام نتیجہ خیز نہیں ہو سکتا۔ حکومت کے پاس اب دوراستے ہیں۔ ایک یہ کہ فیصلے کی باگ اپنے ہاتھ میں لے اور یکسو ہو جائے۔ وہ چاہے تو اس کا آغاز مذاکرات ہی سے کرے۔ اسکا حق حکومت کو اے پی سی نے دے رکھا ہے۔ دوسرا یہ کہ معاملے کی باگ عمران خان اور سراج الحق صاحب کو تھما دے۔ وہ جو چاہیں کریں۔

پشاور میں ایک ہفتے میں تین دھماکے ہو چکے۔ ہر دوسرے دن دھماکہ۔ یہ آواز اب مزید بلند ہو گی کہ حکومت اسی وقت متحرک ہو گی جب خاکم بدہن کوئی دوسرا صوبہ مقتل بنے گا۔ جس دن یہ آواز پورے آہنگ سے اٹھے گی تو ممکن ہے ہم مشرقی پاکستان کو بھول جائیں۔ اگر حکومت نے اب بھی کوئی فیصلہ کن اقدام نہ کیا تو جمہوریت کا مستقبل بھی خطرات میں گھر جائے گا۔ جہاں جان و مال کا تحفظ نہ ہو وہاں جمہوریت محض عیاشی تصور ہوتی ہے۔ عیاشی کے حق میں پھر کوئی آواز نہیں ابھرتی۔ اس سے پہلے کہ لوگ مارشل لاء کا مطالبہ کریں حکومت کو فیصلہ کرنا ہو گا۔ غلط فیصلہ ابہام سے بہتر ہوتا ہے۔
بہ شکریہ روزنامہ "دنیا"

کالم نگار کی رائے سے العربیہ ڈاٹ نیٹ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

نقطہ نظر

مزید

قارئین کی پسند