فیس بک پر حکومت کے خلاف اشتعال، مصری خاتون گرفتار

خاتون اخوان کی حامی ہے، انسانی حقوق کے اداروں کا اظہار تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مصر میں ایک اخوان المسلمون کی حامی خاتون کو فیس بک کے ذریعے مبینہ اشتعال پھیلانے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ اخوانی خاتون نے سوشل میڈیا کے ذریعے پولیس اور فوج کے خلاف اشتعال پھیلانے کی کوشش کی تھی۔

گرفتار کی گئی مصری خاتون ''انقلابی اتحاد ''کے نام سے فیس بک کا پیج بنائے ہوئے تھی۔ جس میں مبینہ طور پر مصری حکومت کے انفراسٹرکچر، بشمول بنکوں، پویس کی گاڑیوں، اور دوسری سرکاری املاک کو نشانہ بنانے کے لیے اکسایا جا رہا تھا۔

خبر رساں ادارے "مینا" کے مطابق 35 سالہ مصری خاتون نے اعتراف کیا ہے کہ وہ اخوان المسلمون کی حامی ہے اور ترکی میں موجود اخوان کے ارکان کے ساتھ رابطے میں ہے۔

مصری خبر رساں ادارے نے گرفتار کی گئی خاتون کے حوالے سے یہ بھی رپورٹ کیا ہے کہ مذکورہ اخوان ارکان نے اسے کارروائیاں کرنے کے لیے بھی کہا تھا۔

خاتون کی گرفتاری پر انسانی حقوق کے بین الاقوامی اداروں نے خبردار کیا ہے کہ مصر میں اخوان المسلموں کے حامیوں کے خلاف جولائی 2013 سے غیر معمولی کریک ڈاون کی صورت حال جاری ہے۔

واضح رہے کہ اس دوران اخوان المسلمون کی اعلی قیادت سمیت 15000 اخوان ارکان گرفتار کر کے جیلوں میں بند کیے جا چکے ہیں۔ ان گرفتاروں پر انسانی حقوق کے ادارے پہلے بھی آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں