دیوار فاصل کے بعد اسرائیل کا سمندر میں بھی باڑ لگانے کا منصوبہ
اسرائیل نے دریائے اردن کے مغربی کنارے کے علاقوں میں یہودی کالونیوں کے تحفظ کے لیے دیوار فاصل کے بعد شمالی اسرائیل میں سمندر میں بھی فلسطینی دراندازی روکنے کے لیے باڑ لگانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔
خیال رہے کہ اسرائیل اس سے قبل جنوب میں غزہ کی طرف سے ساحل سمندر پر ایسی ایک باڑ پہلے بھی لگا چکا ہے۔
اسرائیل کے عبرانی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ٹی وی2 کی رپورٹ کے مطابق سمندر میں باڑ کے منصوبے کے لیے امریکی اور یورپی کمپنیوں کو ٹھیکہ دیا جائے گا۔ باڑ میں جدید مواصلات آلات بھی نصب کیے جائیں گے جو جنوبی لبنان اور غزہ کی طرف سے کسی بھی سمندری دراندازی کی پیشگی اطلاع دیں گے۔
باڑ میں لگے جدید مواصلاتی آلات کی اطلاع کے بعد اسرائیلی بحریہ حرکت میں آئی گی اور غوطہ خوروں، آبدوزوں اور کشتیوں کی نقل وحرکت جانچنے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ رواں سال اگست میں غزہ پر اسرائیلی فوج کے حملے کے دوران اسلامی تحریک مزاحمت’’حماس‘‘ کے غوطہ خوروں نے زیکیم بحری اڈے پر سمندری راستے سے حملے کی کوشش کی تھی جس کے بعد صہیونی حکومت نے سمندرمیں باڑ لگا دی تھی۔
-
اسرائیل: یہودی بستی امونا کو گرانے کا حکم
اسرائیل کی ایک اعلیٰ عدالت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم یہودی آباد کاروں کی ایک ...
مشرق وسطی -
اسرائیل کے لیے جاسوسی پر حزب اللہ کا عہدے دار گرفتار
لبنان کی شیعہ ملیشیا نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں اپنے ہی ایک سینیر عہدے ...
مشرق وسطی -
محمود عباس کی اسرائیل سے تعاون ختم کرنے کی دھمکی
فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس نے کہا ہے کہ اگر سلامتی کونسل میں پیش کی گئی ...
مشرق وسطی